BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 January, 2004, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی اخبارات اور اسلام آباد اعلامیہ

پاکستانی اخبارات
’فریقین کے رویے میں لچک آئے گی‘

پاکستان کے قومی اخبارات کی اکثریت نے ہندوستان اور پاکستان کے اسلام آباد میں جاری ہونے والے چھ جنوری کے مشترکہ بیان کی حمایت کی ہے اورامید ظاہر کی ہے کہ اس سے جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوگا اورمسئلہ کشمیر حل کی طرف بڑھے گا۔

تاہم دائیں بازو کے اخبار نوائے وقت نے اس بات چیت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے پاکستان کو اپنی پالیسی پر دوبارہ نظر ڈالنے کے لیے کہا ہے۔

نوائے وقت نے اپنے جمعرات کے اداریہ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت پر خاصی سخت تنقید کی ہے۔ اخبار نے اسلام آباد میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان کا نواز شریف کے دور میں جاری ہونے والے لاہور اعلامیہ سے موازنہ کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ لاہور اعلامیہ کو جنرل مشرف نے ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنائے رکھا حالانکہ اس میں بھی تمام مسائل بشمول کشمیر بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بات کی گئی تھی اور اس وقت نہ تو پاکستان کی طرف سے ہر قسم کی ’دہشت گردی‘ ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کا اصل مقصد جہادِ کشمیر کا خاتمہ ہے اور نہ کنٹورل لائن پر سیز فائر کرکے ہندوستان کو باڑ لگانے کا موقع فراہم کیا گیا تھا اور نہ پاکستان نے ’دہشت گردی‘ کے بارے میں سارک کے اضافی پروٹوکول پر دستخط کیے تھے۔

اخبار کا خیال ہے کہ اضافی پروٹوکول بنیادی طور پر کشمیری عوام کی جدوجہد کا قلع قمع کرنے اور پاکستان کو ان کی نہ صرف عملی بلکہ اخلاقی وسیاسی اعانت سے روک دینے کا ایک ایسا ہتھیار ہے جو بُش کو خوش کرنے کے لیے بھارت کے ہاتھ میں تھما دیا گیا ہے۔

اخبار کی رائے ہے کہ بھارت کشمیر میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کو دہشت گردی قرار دے کر روزانہ پاکستان سے جواب طلبی اور بندے طلب کرے گا۔

روزنامہ ’جنگ‘ نے آٹھ جنوری کو اپنے ایک طویل اداریہ میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا جائزہ وسیع تناظر میں لیا ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف کی تازہ پالیسی کے حق میں موقف اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان پر دباؤ کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔

اخبار نے ان اسباب کا جائزہ لیا ہےجن کی بِنا پر ہندوستان کے مقابلہ میں پاکستان کی مجموعی پوزیشن کمزور رہی ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ دنیا نے کشمیر میں مسلح تحریک چلانے والوں کو دہشت گرد اور ان کا تعلق سرحد پار پاکستانی علاقہ سے تسلیم کیا ہے اور پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تربیتی کیمپ بند کرے۔

روزنامہ ’جنگ‘ نے مشورہ دیا ہے کہ جذباتیت ترک کرکے ایک موقف اختیار کرنا چاہیے۔ اخبار نے سیاسی اور عسکری حلقوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حق میں کوئی نہیں ہے اس کے خاتمے کے لیے جو اقدام ہوگا اس کا سب ساتھ دیں گے، ملک میں اقتصادی ترقی، روزگار کی فراہمی کے اقدامات کے سب حامی ہیں۔ اس کے لیےمعذرت خواہانہ رویہ کی ضرورت نہیں ہے۔

انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ نے اپنے سات جنوری کے اداریہ میں ہندوستان اور پاکستان کی بات چیت پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگلے ماہ فروری میں دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہونے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستان خاصے عرصے سے اس کا مطالبہ کررہا تھا۔

’ڈان‘ کی رائے ہے کہ مشترکہ بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ دوطرفہ مذاکرات کا نتیجہ مسئلہ کشمیر کے ایسے حل کی صورت میں نکلے گا جو دونوں فریقین کے لیے باعث اطمینان ہو۔ اخبار کا خیال ہے کہ اس بات سے پاکستان کے اس طویل موقف کو مان لیا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر میں کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ ایک فریق ہے۔

اخبار کی رائے ہے کہ جنوبی ایشیا کے لوگ اور ساری دنیا کے لوگ توقع کرتے ہیں کہ دونوں ملک امن کی طرف اس رفتار کو قائم رکھیں گے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا جائے تو دونوں ملک مسائل کو حل کرسکتے ہیں اور مشرف اور واجپائی کی ملاقات سے پتا چلتا ہے کہ اگر دونوں فریقین لچک دکھائیں اور لفاظی سے گریز کریں تو ذہنوں کا میل ممکن ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے اپنے آٹھ جنوری کے اداریہ میں لکھا ہے کہ دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ دو متحارب فریقوں میں دشمنی اور شکوک شبہات میں کمی سے تنازعات کا حل آسان ہوجاتا ہے اور جنوب ایشیا کے تناظر میں بھی یہی درست ہے کیونکہ امن قائم کرنے کے لیے دونوں فریقین کو اپنے موقف کو ترک کرنا ہوگا۔

اخبار کا خیال ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ’دونوں فریقین کے اطمینان‘ کے جو الفاظ استعمال کیے گۓ ہیں وہ اہم ہیں اور لگتا ہےکہ آنے والے مہینوں میں تعلقات کی بحالی کے عمل سے دونوں طرف کے موقف میں لچک آئے گی اور کشمیر کامسئلہ حل کی طرف بڑھے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد