مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ذرائع ابلاغ اور جنوبی ایشیا میں امن‘ کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز حزب اقتدار اور اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کے رہنماؤں نے پاک بھارت امن عمل کی کامیابی کے لیے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں قائد حزب اختلاف اور متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری مولانا فضل الرحمان نے ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن یعنی ’سیفما‘ کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان اور بھارت کے عوام اپنے تنازعات پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتےہیں اور پرامن حل گولی سے نہیں، بلکہ صرف بولی سے ہی ممکن ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہے تو اس کے راستے میں کوئی ’کارگل‘ نہیں آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک وزیراعظم نے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا اور معاملہ اعلان لاہور تک پہنچ گیا تو اس کے بیچ میں کارگل کی لڑائی آگئی جس پر پوری دنیا نے پاکستان کو قصوروار ٹہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہےکہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے سے ہی کیا جانا چاہیے جبکہ بھارت کا دعوی ہے کہ یہ اس کا داخلی مسئلہ ہے اور اس پر مذاکرات بھی نہیں کرتا تھا، لیکن اب وہ مذاکرات پر رضا مند ہوگیا ہے اور یہ بات غنیمت ہے۔ انہوں نے کہا: ’ہم اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کو ایک اہم مسئلے کے طور پر سمجھ رہے ہیں اور اس کے حل کے لیے پاکستان سے مذاکرات پر آمادہ ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ واجپئی کے دور میں کشمیرکے حل کے بارے میں توقعات اوپر جارہی تھیں لیکن کانگریس کی حکومت آنے کے بعد یہ توقعات نیچے جارہی ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر جمود کو ٹوٹنا چاہیے اور اس کا حل سیاسی بنیادوں پر مکالمے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر اور دوطرفہ معاملات کو بہتر بنانے کے لیے جو بنیاد فراہم کر دی ہے اس کے بعد اب بھارتی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو اس سلسلے میں آگے بڑھنا چاہیے۔ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز کی مرکزی نائب صدر تہمینہ دولتانہ نے کہاکہ بھارت بھگلیار اور وولر بیراج جیسے منصوبوں پر کام جاری رکھ کر پاکستان کے پانی میں کمی کررہا ہے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا وہ ایک خشک اور زراعت سے محروم پاکستان دیکھنا چاہتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس سمیت کشمیر جیسے تنازعات کو حل کیے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ تنازعات حل کیے جائیں پھر ہی قربت کی بات ہوسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے مرکزی رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ عام خاندان اپنے ہمسائے کو تبدیل کر سکتاہے لیکن ممالک اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج معاملہ برعکس ہو چکاہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا پیش رفت کرے اور اب اختلافی معاملات کی بجائے اتفاق والے معاملات کو اٹھایا جائے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہاکہ مظفر آباد اور سرینگر بس سروس شروع کرنے کے سلسلے میں انہیں مثبت اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی سرینگر سے جو بس آئے گی اس میں کشمیری رہنما آئیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پائیدار امن اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب اس کے لیے دونوں اطراف سے کوشش کی جائے۔انہوں کہاکہ وزیراعظم شوکت عزیز کے بھارت دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ ساؤتھ ایشئن فری میڈیا ایسوسی ایشن’ سیفما‘ کے زیر اہتمام سارک ممالک کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر مشتمل دو روزہ کانفرنس اگرچہ اتوار کو اختتام پذیر ہوگئی ہے لیکن اس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے سارک ممالک کے مندوبین ابھی مزید تین روز پاکستان میں گزاریں گے۔ اس دوران وہ اپنے اعزاز میں منعقدکی جانے والی مختلف تقاریب میں شرکت کے علاوہ لاہور کے تاریخی مقامات اور عمارات کی سیر کریں گے اور تئیس نومبر کو ان کی واپسی شروع ہوجائےگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||