مظفرآباد: ملے جلے ردِ عمل کا اظہار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھارت کے وزیراعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کی تقریر اور بھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کے عمل پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نے بھارت کے وزیراعظم کی جانب سے کشمیری علحیدگی پسندوں کو مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے یہ بہت اچھی پیش کش ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پیش کش کو خوش دلی سے قبول کیا جانا چاہے اور اس موقع کا فائدہ اٹھایا جانا چاہے ۔ کشمیری رہنما نے بھارت کی طرف سے اس کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کے عمل کا بھی خیر مقدم کیا ہے اور اسے ایک مثبت علامت قرادیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھارت کی اچھی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے ماحول کو سازگار بنانے اور مفاہمت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ سردار عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ گو کہ فوج کی تعداد کم کرنے کا عمل بذات خود ایک بہت اچھا عمل ہے لیکن ساتھ ہی انکا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت کو آبادیوں سے فوج باہر نکالنی چاہے تا کہ عام کشمیریوں کو سکون ملے ۔ خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے بات چیت کی پیشکش اور اقتصادی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکڑ من موہن سنگھ کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی ۔
انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے اور یہ کہ دوطرفہ مذاکرات خواہ کشمیریوں اور بھارت کے درمیان ہوں یا بھارت اور پاکستان کے درمیان اس سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ کشمیریوں کے خواہشات اور مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مسڑ خان نے فوج میں تخفیف کرنے کے عمل کو ایک اچھی خبر قرار دیا البتہ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ اتنی بھی اچھی خبر نہیں ہے کہ اس کو کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بڑا قدم سمجھا جائے۔ کئی خودمختار تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی قومی اتحاد نے بھارت کے وزیراعظم کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو سراہا ہے لیکن اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت کشمیریوں کے صحیح اور نمائندہ قیادت سے ہونے چاہیں ۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے حقیقی اور نمائندہ قیادت کو اقوام متحدہ کے زیرنگرانی انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جانا چاہے۔ اس اتحاد نے فوجوں کی تعداد کم کرنے کے عمل کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر کے تمام حصوں سے اپنی فوج نکال لینی چاہیے اور کشمیریوں کو اپنے خواہشات اور مرضی کے مطابق اپنے مسقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہے۔ کشمیر میں برسرپیکار کئی تنظیوں پر مشتمل متحدہ جہاد کونسل نے بھی بھارتی وزیر اعظم کے اقتصادی پیکج اور مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے ۔ اس اتحاد کے سربراہ سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کشمیر عوام کے حق حق خودارادیت تسلیم کرنے کے بجائے انھیں ترقیاتی پیکج کی پیش کش کرکے کشمیریوں کو مسلسل اپنی غلامی میں رکھنا چاہتا ہے ۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم کی کشمیر آمد پر ہڑتال سے من موہن سنگھ پر واضع ہونا چاہیے کہ کشمیری عوام اپنے آزادی کے حق سے دستربردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی اقتصادی پیکج کے لیے نہیں لڑرہے ہیں بلکہ حق خودارادیت کے لیے برسرپیکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی کے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سید صلاح الدین نے فوج کی کمی کے عمل کو بھی مسترد کیا ہے اور اسے کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری عوام پر ہونے والے زیادتیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش قرار دیا ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||