BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 November, 2004, 21:52 GMT 02:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد: ملے جلے ردِ عمل کا اظہار

سری نگر تا چکوٹھی
یہ فاصلے حوصلہ مندانہ اقدام کا تقاضا کرتے ہیں
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھارت کے وزیراعظم ڈاکڑ منموہن سنگھ کی تقریر اور بھارت کی جانب سے اس کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کے عمل پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نے بھارت کے وزیراعظم کی جانب سے کشمیری علحیدگی پسندوں کو مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے یہ بہت اچھی پیش کش ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پیش کش کو خوش دلی سے قبول کیا جانا چاہے اور اس موقع کا فائدہ اٹھایا جانا چاہے ۔ کشمیری رہنما نے بھارت کی طرف سے اس کے زیرانتظام کشمیر میں فوج کی تعداد کم کرنے کے عمل کا بھی خیر مقدم کیا ہے اور اسے ایک مثبت علامت قرادیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھارت کی اچھی نیت کو ظاہر کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے ماحول کو سازگار بنانے اور مفاہمت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ سردار عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ گو کہ فوج کی تعداد کم کرنے کا عمل بذات خود ایک بہت اچھا عمل ہے لیکن ساتھ ہی انکا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت کو آبادیوں سے فوج باہر نکالنی چاہے تا کہ عام کشمیریوں کو سکون ملے ۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے بات چیت کی پیشکش اور اقتصادی پیکج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکڑ من موہن سنگھ کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی ۔
مسڑ خان کا کہنا تھا کہ کہ ہم بات چیت برائے بات چیت یا اقتصادی پیکج پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔

News image
کشمیر کے دونوں حصوں کے لوگ چاہتے ہیں کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر آمد و رفت شروع ہو جائے

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بامعنی مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے اور یہ کہ دوطرفہ مذاکرات خواہ کشمیریوں اور بھارت کے درمیان ہوں یا بھارت اور پاکستان کے درمیان اس سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ کشمیریوں کے خواہشات اور مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مسڑ خان نے فوج میں تخفیف کرنے کے عمل کو ایک اچھی خبر قرار دیا البتہ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ اتنی بھی اچھی خبر نہیں ہے کہ اس کو کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے بڑا قدم سمجھا جائے۔

کئی خودمختار تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی قومی اتحاد نے بھارت کے وزیراعظم کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو سراہا ہے لیکن اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت کشمیریوں کے صحیح اور نمائندہ قیادت سے ہونے چاہیں ۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کے حقیقی اور نمائندہ قیادت کو اقوام متحدہ کے زیرنگرانی انتخابات کے ذریعے منتخب کیا جانا چاہے۔

اس اتحاد نے فوجوں کی تعداد کم کرنے کے عمل کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر کے تمام حصوں سے اپنی فوج نکال لینی چاہیے اور کشمیریوں کو اپنے خواہشات اور مرضی کے مطابق اپنے مسقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہے۔

کشمیر میں برسرپیکار کئی تنظیوں پر مشتمل متحدہ جہاد کونسل نے بھی بھارتی وزیر اعظم کے اقتصادی پیکج اور مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے ۔ اس اتحاد کے سربراہ سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کشمیر عوام کے حق حق خودارادیت تسلیم کرنے کے بجائے انھیں ترقیاتی پیکج کی پیش کش کرکے کشمیریوں کو مسلسل اپنی غلامی میں رکھنا چاہتا ہے ۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم کی کشمیر آمد پر ہڑتال سے من موہن سنگھ پر واضع ہونا چاہیے کہ کشمیری عوام اپنے آزادی کے حق سے دستربردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی اقتصادی پیکج کے لیے نہیں لڑرہے ہیں بلکہ حق خودارادیت کے لیے برسرپیکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی کے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

News image
سید صلاح الدین

سید صلاح الدین نے فوج کی کمی کے عمل کو بھی مسترد کیا ہے اور اسے کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے کشمیری عوام پر ہونے والے زیادتیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش قرار دیا ۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد