ذدالفقار علی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد |  |
 |  جے کے ایل ایف کے امان اللہ خا |
پاکستان ہفتے کے روز یعنی پانچ فروری کو سرکاری طور پر یوم یکجہتی کشمیر منا رہا ہے لیکن خودمختار کشمیر کی حامی ایک اہم تنظیم نے اسے وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دیا اور پاکستان پر کشمیریوں کے ساتھ نوآبادیاتی طرز عمل کا الزام عائد کیا ہے۔ گرچہ کشمیر کی تاریخ میں اس دن کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے لیکن سن 1992 سے پاکستان سرکاری طور پر پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر مناتا آ رہا ہے ۔ اس کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ان کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے جو بھارت سے علحیدگی کے خواہاں ہیں ۔ خودمختار کشمیر کی حامی ایک اہم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یعنی جے کے ایل ایف کے اپنے دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نےکہا اس دن کی کوئی تاریخی یا سیاسی اہمیت نہیں ہے اور یہ کہ یہ دن منائے جانے سے نہ تو کشمیر میں جاری علیحدگی کی تحریک یا عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی پوزیشن پر کوئی مثبت اثر پڑا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر منانا وقت اور پیسے کا ضیاع ہے اور اس کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے ۔ پاکستان انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل سے سرکاری طور پر پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر مناتا آرہا ہے اور اس کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علحیدگی پسندوں کے ساتھ حمایت کا اظہار کرنا ہے ۔ مسڑ خان نے پاکستان کی طرف سے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے دن کے طور پر منانے کو کشمیریوں کے ساتھ نام نہاد یکجہتی کا اظہار قرار دیا اور یہ الزام عائد کیا کہ گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے کے دوران حکومت پاکستان کشمیروں کے حق خودارادیت کی حمایت سے ہی دستبردار ہو چکی ہے۔ مسڑ خان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے 1999 کے اعلان لاہور اور جنوری 2004 کے اعلان اسلام آباد کا حوالہ دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اعلانیوں میں نہ تو کشمیریوں کے حق خودارادیت کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کشمیروں کو مسئلہ کشمیر کے فریق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ جبکہ امان اللہ خان کا کنہا ہے کہ کشمیری ہی اس تنازعے کے اہم ترین اور سب سے زیادہ متاثرہ فریق ہیں ۔ لبریشن فرنٹ کےسربراہ نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان واقعی مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کے خواہشات اور جذبات کے مطابق حل کرنا چاہتی ہے تو وہ کشمیریوں کے حق خودمختاری کو تسلیم کرے ۔ مسڑ خان نے کہا کہ میں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ کشمیرکی خودمختاری کی حمایت کرے البتہ میرا مطالبہ یہ کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خومختاری کو تسلیم کرے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کہ طرف سے کشمیریوں کے خودمختاری کے حق کو تسلیم نہ کرنے سے ان کے کہنے کے مطابق پاکستان کے نو آبادیاتی طرز فکر اور عمل کی بو آتی ہے ۔ کشمیر کے تنازعے پر پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ اس مسئلے کا حل کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداودں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے نکالا جائے جسکے تحت کشمیریوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق کریں ۔ مسڑ خان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تشریح کے مطابق کسی قوم کے حق خود ارادیت کو نہ تو محدود کیا جاسکتا ہے ، نہ ہی مشروط چنانچہ ان کا کہنا ہے اس تشریح سے انحراف کرنے والے نو آبادیاتی طرز عمل کے حامل ہی ہو سکتے ہیں ۔ مسڑ خان کا یہ بیان یوم یکجہتی کشمیر کے ایک دن پہلے آیا ۔واضع رہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سن 1988 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی طرف سے مسلح جدوجہد کے آغاز کے چند سالوں بعد سن 1992 میں پہلی مرتبہ پاکستان نے سرکاری طور میں پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا ۔ اس کے بعد سے اب ہر سال یہ دن سرکاری طور پر منایا جارہا ہے ۔ اس روز پاکستان اور اسکے زیر انتظام کشمیر میں عام تعطیل ہوتی ہے اور سرکاری ، نیم سرکاری ، تعلیمی اور کاروباری ادارے بند رہتے ہیں ۔ پاکستان اور اسکے زیر انتظام کشمیر میں مختلف سیاسی اور دینی جماعتں جلسے جلوسوں کا انعقاد کرتے ہیں ۔ گذشتہ چند سالوں سے اس دن کے موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کا مشترکہ اجلاس بلایا جاتا ہے جس سے پاکستان کے وزیراعظم یا صدر خطاب کرتے ہیں۔ اس بار بھی توقع ہے کہ پاکستان کے صدر یا وزیراعظم اس مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے لیکن خودمختار کشمیر کی حامی تنظیموں نے کھبی بھی اس دن کو نہیں منایا۔ |