کشمیر حملے میں چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں کے ہوٹل پر ایک حملے میں چار افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں پیش آیا جہاں ہوٹل میں دستی بم پھینکے گئے۔ حملے سے متاثر ہونے والوں میں زیادہ تر لوگ بھارت کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے تھے۔ ایک علیحدگی پسند گروہ ال ناصرین نے جو زیادہ جانا پہچانا نہیں جاتا حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو سیاح تھے ان میں سے ایک چھ سالہ بچی تھی جبکہ دوسرے دو کا تعلق ہوٹل کے سٹاف سے تھا۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ دستی بم کی وجہ سے ایک گیس کے سلنڈر میں آگ لگ گئی جس سے زیادہ نقصان ہوا۔ ہفتہ کے روز ایک اور حملے میں بیس شہری اس وقت زخمی ہوئے جب سرحدی علاقے ہندوارہ میں ایک فوجی چوکی کے قریب دستی بم پھینکے گئے۔ بی بی سی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں ال ناصرین نے کہا ہے کہ حملے کا مقصد سیاحوں کو تنبیہ کرنا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||