مشرف فارمولہ: نئی بحث کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق صدر پرویز مشرف کی جانب سے دیئے گئے بیان کے بعد پاکستان میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستان کی حزب اختلاف کی کئی جماعتوں نے صدر جنرل مشرف کی تجاویز کو کشمیر کاز سے غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔ تاہم بھارتی حکام کی جانب سے اس ضمن میں کسی باضابطہ ردِعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے البتہ حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان خورشید نے کہا ہے کہ بھارت سرحد پار سے جاری دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کے ضمن میں مزید پیش رفت کو سراہے گا۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے استصواب رائے اور کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنائے جانے کو ناممکن قرار دیتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک نیا فارمولہ دیا ہے۔ پیر کے روز اسلام آباد میں ایک افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو جغرافیائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ کشمیر کے کچھ حصے پاکستان اور کچھ بھارت میں شامل ہو سکتے ہیں جبکہ بعض خود مختار حیثیت سے رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو طے کرنا ہے کہ کون سے حصے دونوں ممالک کے پاس ہوں اور کون سے حصے کو خودمختاری دی جا سکتی ہے۔ تجویز کے مطابق خودمختار حصے کو اقوام متحدہ کے زیرانتظام کیا جا سکتا ہے یا پھر یہ دونوں ممالک کے مشترکہ کنٹرول میں بھی رہ سکتا ہے۔ اسلام آباد میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے اس نئے بیان نے پورے ملک و قوم کو ششدر کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بھارت اور امریکہ اور دنیا کی دیگر اقوام پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے کشمیر حل پر توجہ نہ دیں کیونکہ ان کی اپنی حیثیت متنازعہ ہے اور ان کے کسی فیصلےکو پاکستانی قوم کا فیصلہ نہیں کہا جا سکتا۔‘ قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف کو ایسا کوئی حل پیش کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، وہ خود فیصلے کرتے ہیں اور خود ہی مذاکرات شروع کر دیتے ہیں جن کی کوئی وقعت نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’وہ دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف ایک متنازعہ شخصیت ہیں اور اپوزیشن ان کے خلاف تحریک کا آغاز کرنے والی ہے۔‘ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل سید منور حسن نے کہا کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف بھارت اور امریکہ کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں اور انہیں کشمیر کے ایسے حل پیش کرنے سے باز آ جانا چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف نے ایسے کسی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور جماعت اسلامی ان کے خلاف تحریک چلائے گی۔ اتحاد کے نائب صدر حافظ حسین احمد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مشرف کے بیان کو کشمیر پالیسی سے انحراف اور رول بیک کرنے سے تعبیر کیا اور کہا کہ ’صدر مشرف کو اپنی تجاویز پارلیمان کے سامنے پیش کرنی چاہئیں تھیں۔‘ تاہم بعض تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں کسی قسم کے فیصلے پر پہنچنے سے پہلے تمام تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||