’ہم اِس طرح جواب نہیں دیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کی تجویز پر بھارت نے کہا ہےکہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی باتوں پر رد عمل نہیں دیا جا سکتا۔ دِلّی میں وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ہم ذرائع ابلاغ میں کسی خبر کے جواب میں شروع ہونے والے کسی عمل پر رد عمل ظاہر نہیں کر سکتے۔ مذاکرات کا عمل جاری ہے، اگر کوئی تجویز ہے تو وہ ان مذاکرات میں سامنے آنی چاہیے‘۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جموں اور کشمیر کا معاملہ ایسا نہیں جس پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے مذاکرات کیے جائیں۔ دریں اثناء وزارت خارجہ میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کشمیر پر اپنے موقف کے ناقابل عمل ہونے کا احساس ہو گیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ کشمیر کی خود مختاری پر بھارت میں بحث جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کی سرحدیں تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار سنجیو سری واستو نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی تجویز کے جواب میں فوری رد عمل کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دلّی کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ بھارت نے ہمیشہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس کے لیے پاکستان کی ہر تجویز پر رد عمل ظاہر کرنا ضروری نہیں۔ نامہ نگار نے بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی تجاویز پر رد عمل دینے کا مطلب پاکستان کو ایجنڈا طے کرنے کا موقع دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ بے اعتباری کا عنصر بھی ہے کیونکہ جب بھی پاکستان کوئی نئی تجویز پیش کرتا ہے دلِّی میں بہت سے لوگ اسے کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق بھارت کے ترجمان نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ صدر مشرف کی تجویز کے جواب میں کوئی فوری رد عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہ یہ تجویز نئی اور دلچسپ ہے اور بھارت اس پر غور کے بعد جواب دے گا۔ نامہ نگار نے کہا تھا کہ ایک بات طے ہے کہ بھارت کا جواب پاکستان کی تجویز کی طرح ڈرامائی نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||