وزیرِاعظم پر حملے کے ملزم گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی پولیس نے وزیرِاعظم شوکت عزیز پر پچھلے سال ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث تین بھائیوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تیس جولائی دو ہزار چار کو ہونے والے اس خودکش حملے میں مبینہ حملہ آور سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ڈی آئی جی راولپنڈی پولیس چودھری افتخار کے مطابق ان تین بھائیوں نثار،باسط اور منعم کا تعلق فتح جنگ سے ہے۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں ملوث نیٹ ورک کا پتہ بھی چلا لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مسٹر مائنڈ امجد فاروقی تھا جو پچھلے سال نواب شاہ میں پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا اور اس نیٹ ورک میں مختلف کالعدم مذہبی تنظیموں کے لوگ تھے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق جماعت الفرقان سے ہے جو کالعدم تنظیم جیش محمد کا ہی دوسرا نام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دو خودکش حملہ آور تھے جن میں سے ایک بارودی بیلٹ نہ پھٹنے کے سبب حملہ کرنے میں ناکام رہا۔ مبینہ خود کش حملہ آوروں کے نام عرفان عرف ذیشان عرف شانی اور عبید بتائے ہیں جن میں سے عرفان کا تعلق لاہور جبکہ عبید کا کوہاٹ سے ہے۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ اس حملے کی سازش سوات،اٹک،حضرو اور فتح جنگ میں تیار کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں عرفان اور عبید کو بارودی بیلٹ اور گرنیڈ استعمال کے لیے دیے گئے تھے اور اس میں اتنا دھماکہ خیز مواد تھا جس سے بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے افراد بھی نہ بچ سکیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان تین ملزمان کو آج گرفتار کیا ہے جبکہ ملزمان کے اہل خانہ نے چند ماہ پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ تینوں بھائی خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||