کشمیر: مسافر لسٹوں کا تبادلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بس سروس کے ذریعے ممکنہ سفر کرنے والوں کی فہرستیں اور انکے درخواست فارمز کا تبادلہ کیا گیا۔ سافروں کی فہرستوں کے تبادلے کے لیے منگل کو منعقد کی گئی تقریب میں دونوں اطراف کے فوجی اور سول حکام نے شرکت کی۔ دستاویزات کا تبادلہ سرحدی قصبہ چکوٹھی کے مقام پر حال ہی میں بننے والے اس پل سے چند گز کے فاصلے پر ہوا جو کشمیر کے دونوں حصوں کو آپس میں میں ملاتا ہے۔ حکومت پاکستان نےمظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر لیاقت حسین چوہدری کو دستاویزات کے تبادلے کے لئے نامزد کیا تھا، جبکہ لائن آف کنڑول کے اس پار بھارتی فوج کے ایک کرنل جی۔ایس راوت نے اس کام کو انجام دیا۔ بھارتی فوج کے کرنل کشمیر کے دونوں حصوں کو ملانے والے پل کو عبور کرکے چکوٹھی میں داخل ہوئے۔ اس پل کا نصف حصہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہے، جبکہ نصف حصہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں، اور یہ پل اس حصے میں لائن آف کنڑول بناتا ہے۔ بھارتی کرنل کے ہمراہ اپنی افواج کے پانچ ساتھی بھی ہمراہ تھے۔جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی طرف سے ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ پاکستان کی فوج کے مقامی کرنل چراغ حیدر ساتھ تھے۔ مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر اور بھارتی فوج کے کرنل نےاس موقع پر آپس میں مسافروں کے درخواست فارموں کے تبادلے کے علاوہ ایک دوسرے کو مٹھائیاں اور تحائف پیش کیے۔ اس کے بعد دونوں طرف سے ممکنہ مسافروں کے دستاویزات کی جانچ پڑتال کرکے مجاز اتھارٹی مسافروں کو پرمٹ یا خصوصی اجازت نامہ جاری کرے گی تاکہ دونوں طرف کے یہ مسافر 7 اپریل کو پہلی بس میں سفر کر سکیں۔ اس سفر کے لئے ویزے کے بجائے خصوصی’پرمٹ، یا اجازت نامہ جاری کیا جائےگا اور اس کے لئے بھارت نے سرینگر میں ریجنل پاسپورٹ آفیسر کو اختیار دیا ہے جبکہ حکومت پاکستان کی طرف سے مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر کو نامزد کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہلی بس میں دونوں طرف سے تیس تیس لوگ ہی سفر کریں گے ۔ لیکن اس موقع پر چیف سیکریڑی کاشف مرتضیٰ نے کہا کہ یہ ابھی طے ہونا باقی ہے کہ کون اتھارٹی کس طرف کے مسافروں کو پرمٹ جاری کرے گی۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان اجازت ناموں پر کشمیر کے دونوں طرف کے مجاز اتھارٹی کی مہر ہوگی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||