BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 21:44 GMT 02:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں بس میں سری نگر جانا چاہتا ہوں‘

News image
’مجھے سرینگر بہت یاد آتا ہے کیونکہ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ نو سال وہاں گزارے ہیں‘
’میری بڑی خواہش ہے کہ میں مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس چلاؤں لیکن اب میں گاڑی نہیں چلا سکتا کیونکہ میری نظر کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ میرے بازؤں میں طاقت بھی نہیں رہی ہے‘۔ یہ ہے خواہش نوّے سالہ غلام حسن شاہ کی جو ڈرائیور رہ چکے ہیں اور سن 1938 سے لے کر 1947 تک سرینگر اور راولپنڈی کے درمیان بس چلاتے رہے ہیں۔

میں نے نوے سالہ غلام حسن شاہ سے مجہوئی کے مقام پر سرینگر جانے والی سڑک کے کنارے گفتگو کی۔ اسی راستے پر وہ اکتوبر 1947 تک بس چلاتے تھے۔

اکتوبر 1947 میں سرینگر اور راولپنڈی روڈ اُس وقت آمدورفت کے لئے بند ہوگئی جب قبائلی کشمیر میں داخل ہوئے اور اُس کے ساتھ ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ کا آغاز ہوا، اور اسی کے نتیجے میں کشمیر دو حصّوں میں منقسم ہو گیا۔

وہ کہتے کہ اگرچہ وہ اب بس نہیں چلا سکتے لیکن ایک مسافر کی حیثیت سے سری نگر جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میری زندگی کی یہ خواہش ہے کہ میں ایک بار پھر سری نگر کو دیکھوں۔ مجھے سرینگر بہت یاد آتا ہے کیونکہ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ نو سال وہاں گزارے ہیں اور میرے تین بچے وہیں پیدا ہوئے ہیں۔‘

قبائلی کشمیر میں
 قبائلیوں نے ہم سے گاڑی کی چابی لے لی شاید اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ کہیں میں گاڑی لے کر بھاگ نہ جاؤں۔ صبح جب میں نیند سے اٹھا تو وہاں میری بس کہیں بھی نہیں تھی۔
غلام حسن

’میں سن 1938 میں ڈرائیور بنا اور اُس وقت سے لے کر سن 1947 تک میں سرینگر اور روالپنڈی کے درمیان گاڑی چلاتا رہا‘۔

’اُس زمانے میں سواریاں کم ملا کرتی تھیں کیونکہ لوگ مالی لحاظ سے کمزور ہوا کرتے تھے اور وہ بس میں سفر کرنے کی بجائے پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ خرچہ پورا کرنے کے لئے بس میں سامان بھی لاتے تھے، پھر بھی ایک چکر کے دوران دس روپے بھی نہیں بچتے تھے۔ اور جس مالک کو دس روپے بچتے تھے وہ اسے بہت بڑی آمدنی تصور کرتا تھا‘۔

سری نگر روڈ
اسی راستے پر غلام حسن اکتوبر 1947 تک سرینگر اور روالپنڈی کے درمیان بس چلاتے تھے۔

’اُس وقت کشمیر کو برصغیر سے ملانے والے سرینگر روالپنڈی روڈ واحد شاہراہ تھی جو بارہ ماہ کھلی رہتی تھی اور اسی راستے زیادہ تر تجارت ہوتی تھی‘۔

غلام حسن کہتے ہیں کہ اس زمانے میں راولپنڈی سے سرینگر یا سرینگر سے راولپنڈی پہنچنے میں دو دن لگتے تھے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ایک تو سڑک خراب تھی اور دوسرے ڈوگرا راج میں رات کو گاڑی چلانے پر پابندی بھی تھی۔

راستے میں کئی شہر پڑتے تھے۔ سری نگر سے نکل کر پہلے پٹن آتا تھا، پھر بارہ مولہ اور اُس کے بعد رام پور۔ غلام حسین بتاتے ہیں کہ رام پور میں لکڑی کی نہر نکالی گئی تھی جس کے ذریعے مہورا میں پانی لایا جاتا ہے اور اس نہر کے پانی سے پن بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اسی طرح پھر اوڑی آتا، چکھوٹی ہوتے ہوئے بس مظفر آباد اور پھر راولپنڈی پہنچتی تھی۔

غلام حسن سری نگر اور راولپنڈی کے درمیان اپنے آخری سفر کی داستان یوں سناتے ہیں: ’یہ 1947 میں اکتوبر کا مہینہ تھا، میں اُس وقت چند ہفتوں سے ڈاک گاڑی چلاتا تھا۔ میں ڈاک لے کر راولپنڈی سے سرینگر گیا لیکن سری نگر روانہ ہونے سے پہلے مجھے پتہ چلا کہ اگلے روز قبائلی کشمیر میں داخل ہونے والے ہیں۔

’میرے بچے اُس وقت سری نگر میں امیراکدل میں رہتے تھے۔ میں ڈاک سری نگر چھوڑ کر اپنے بچوں کو لینے امیراکدل گیا۔ جہاں سے میں نے ان کو بس میں بیٹھا کر مجہوئی میں اتارا۔ اور وہاں سے وہ اپنے گھر گئے۔

غلام حسن
غلام حسن اپنی نواسی کے ساتھ

’میں راولپنڈی چلا گیا۔ جہاں مجھے بس کے مالک نے قبائلیوں کے ساتھ کشمیر بھیج دیا۔ میں قبائلیوں کو لے کر سرینگر کے قریب واقع پٹن پہنچے ہی تھے کہ ہم کو معلوم ہوا کے آگے سے بھارتی فوج آ رہی ہے تو ہم وہاں سے واپس لوٹے اور بارہ مولہ میں قیام کیا۔ لیکن بارہ مولا پہنچتے ہی قبائلیوں نے ہم سے گاڑی کی چابی لے لی شاید اس لئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ کہیں میں گاڑی لے کر بھاگ نہ جاؤں۔ صبح جب میں نیند سے اٹھا تو وہاں میری بس کہیں بھی نہیں تھی۔‘

غلام حسن بتاتے ہیں کہ انہیں کافی پریشانی ہوئی تاہم بعد میں وہ ایک ٹرک میں بیٹھ کر گھر پہنچے۔

وہ بتاتے ہیں کہ قبائلیوں کے ساتھ ہی بھارتی فوج بھی کشمیر میں آ گئی اور حالات خراب ہو گئے۔ ادھر بھارتی فوج کو روکنے کے لئے کچھ پل اُڑا دیئے گئے اور ساتھ ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے معاملے پر جنگ کا آغاز ہو گیا جس کے نتیجے میں سرینگر اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک بند ہو گئی۔

غلام حسن شاہ کے بیٹوں، بیٹیوں اور اُنکے بچوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے جہلم کے کنارے واقع گاؤں مجہوئی میں رہتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد