BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بس سروس، کوئی خوش، کوئی ناراض

News image
مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس کے معاہدے پر ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ملے جلے ردعمل کا اظہار گیا کیا ہے۔

ہندوستان کے حامی لیڈروں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ علحیدگی پسند رہنماؤں کے مطابق اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ عوام نے بھی اس فیصلے پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

علحیدگی پسند جماعت کل جماعتی حریت کانفرنس ( جی) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نےایک ایسے مسلئے پر توجہ دی ہے جسکی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اہم معاملے کو پوری طرح نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگوں نے کشمیر کے لیے قربانیاں دی ہیں اور پوری کشمیری آبادی آج بھی " ڈسٹرب ایریا ایکٹ" اور " آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے ظلم کے سائے میں رہ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی مشکلات بس سروس سے حل ہونے والی نہیں ہیں بلکہ کشمیر مسلئے کو حل کرنے سے ہی کشمیر عوام کو سکون ملے گا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان نے کشمیر کے علحیدگی پسندوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے مسٹر گیلانی نے کہا کہ " ہم چاہتے ہیں پاکستان اپنے اس موقف پر قائم رہے جسے جنرل پرویز مشرف نے آگرہ سربراہ کانفرنس میں اپنایا تھا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے قانون سازوں سے خطاب میں بھی جسکا ذکر کیا تھا''۔

دوسری طرف اعتدال پسند کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ مولوی عمر فاروق نے اس بس سروس کا خیر مقدم کیا ہے۔ انکا کہنا ہے " یہ اچھا قدم ہے لیکن جموں، سیالکوٹ اور پونچھ ،میر پور کے راستوں کو بھی کھلنا چاہئے۔

عمر فاروق نے کہا کہ زمینی حالات کو مزید بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر کے بنیادی مسئلے سے انحراف نہیں کیا ہے اور انسانی ہمدردی کے تحت اس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے ۔

جموں کشمیرلبریشن فورم کے چیئرمین جاوید احمد میر نے بھی ہندوستان پاکستان کے درمیان اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں معلوم ہے کہ کشمیر کا معاملہ قدم بہ قدم حل کیا جا سکتا ہے اور مظفرآباد و سری نگر کے درمیان بس سروس اس سمت میں افتتاحی قدم ہے۔

دو شدت پسند گروہوں ، المنصور اور جمیعت المجاہدین نے اس بس سروس معاہدے کی مخلفت کی ہے۔ جمیعت المجاحدین کے فیلڈ کمانڈر جنرل عمر نے کہا ہے کہ ہندوستان نے اس معاملے میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ دونوں شدت پسند گروہوں نے کہا ہے کہ وہ آزادی کی لڑائی جاری رکھیں گے۔

ایک دکان دار مقبول احمد جنکے تقریبا سبھی رشتےدار پاکستان میں ہیں انہوں نے کہا ہے کہ بس سروس سے انکے دل میں امید جاگی ہے کہ شاید ان کے جدا رشتے داروں سے ملاقات ہوسکے۔ انہوں نے کہا " جدائی کا درد وہی محسوس کر سکتا ہے جس کے قریبی اور محبوب رشتے دار برسوں سے جدا ہوں '' ۔

ٹرانسپورٹر عبدالماجد کا کہنا تھا کہ بس سروس صحیح ہے۔ لیکن کشمیر کا معاملہ بھی حل ہونا چاہیئے تاکہ خون خرابہ رک سکے۔ ایک دوسرے شہری غلام نبی اس معاہدے سے بہت ناراض ہیں انکا کہنا ہے انکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کشمیریوں کی قربانیاں اس طرح ضائع کر دی جائیں گی۔ بس سروس کشمیر کے حق میں نہیں ہے اور کشمیر مسئلہ حل کرنے کی ضرورت ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد