BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 February, 2005, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور یومِ یکجہتی گزر گیا

یومِ یکجہتی
پارلیمینٹ چوک پر بہت بڑے بینر لگائے گئے تھے
پاکستان میں سنیچر کے روز حکومتی سرپرستی اور اخراجات پر ’یوم یکجہتی کشمیر‘ منانے کی رسم پوری کی گئی۔جہاں حکومت نے اپنی تقریبات منعقد کیں وہاں جماعت اسلامی اور جماعت الدعویٰ نے بھی جلوس نکالے اور ’ کشمیر جہاد‘ کے لیے چندہ جمع کیا۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں کشمیریوں کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کا صرف ایسا حل قبول ہوگا جو کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کشمیریوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں ۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ’ حکومت پاکستان نے اپنا یہ موقف عالمی رہنماؤں پر بھی واضح کردیا ہے کہ جب تک کشمیریوں کی مرضی و منشا کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا اور انھیں مذاکرات کے عمل میں شامل نہیں کیا جاتا اس خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری اعتماد بحالی کے اقدامات آگے چل سکتے ہیں‘ ۔

صدر مشرف نے کہا کہ’ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کاز ہمارا اہم قومی مفاد ہے جس پر کسی قسم کی سودے بازی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا‘۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں یومِ یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر تقریبات منعقد کی گئیں۔

اس موقع پر مختلف شہروں سے بسوں اور ویگنوں کے ذریعے لوگوں کو اسلام آباد لایا گیا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش کے جاری رہنے کی وجہ سے گزشتہ برسوں کی نسبت اس سال حاضری بھی کم دیکھنے کو ملی۔

پارلیمینٹ کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ حامد ناصر چٹھہ، حزب مخالف کے رہنما مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں اسلام آباد کے آبپارہ چوک سے گاڑیوں کا جلوس بپرلیمان کے سامنے رکے بغیر چائنا چوک سے گزر گیا۔

ایک چھوٹا جلوس چائنا چوک سے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات انیسہ زیب طاہر خیلی کی سربراہی میں نکالا گیا جس میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی اور کچھ اراکین سینیٹ اور ان کے عملے کےاراکین بھی نعرے لگاتے ہوئے پارلیمینٹ تک آئے۔

جلوس میں ایک ٹریلر بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا جس پر لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے تھے لیکن بارش کی وجہ سے کوئی بھی اس پر سوار نہیں ہوا۔

News image
ٹریلر پر لاؤڈ سپیکر تو تھے مگر کارکن نہیں

پارلیمینٹ کے سامنے جہاں یوم پاکستان کی پریڈ ہوتی ہے وہاں ایک کیمپ بھی لگایا گیا جس میں عام آدمیوں کی نسبت پولیس اہلکار زیادہ نظر آئے۔

تفریحی مقام شکرپڑیاں میں ’ کشمیر میلہ‘، بھی لگایا گیا جس کا افتتاح وزیراعظم شوکت عزیز نے کیا۔ میلے میں دستکاری اور کشمیری ثقافت کی عکاسی کرنے والی اشیاء بھی رکھی گئیں ہیں۔

اس موقع پر موجودہ وزیراعظم نے اپنے سابقہ ہم منصبوں کی طرح کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

جماعت اسلامی اور جماعت الدعویٰ نے اس موقع پر علیحدہ علیحدہ جلسے کیے اور انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔

قاضی حسین احمد نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ عزت سے رہنے کے لیے جہاد کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سمیت فوجی جرنیلوں پر کڑی نکتہ چینی بھی کی۔اس موقع پر کشمیر جہاد کے لیے چندہ بھی جمع کیا گیا۔

نوے کی دہائی کی ابتدا سے حکومت پاکستان ہر سال پانچ فروری کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کرتی ہے اور یہ دن مناتی آرہی ہے لیکن کشمیر کو علیحدہ ملک بنانے کے خواہاں امان اللہ خان سمیت بعض کشمیری رہنماؤں کا دعویٰ رہا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں اس دن کی کوئی خاص اہمیت نہیں بلکہ یہ دن منانا ہی رقم کا ضیاع ہے۔

شاہراہ دستور سمیت اہم سڑکوں پر نصب سٹریٹ لائٹ کے کھمبوں پر’ کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے چھوٹے چھوٹے بینر لگائے گئے تھے جبکہ دفتر خارجہ، پارلیمینٹ کے چوک اور دیگر مقامات پر بہت بڑے بینر بھی لگائے گئے ہیں۔ جن پر ’بھارت کشمیر خالی کردے‘ اور ’ کشمیر میں مظالم بند کیے جائیں‘ کے نعرے اور مطالبے درج ہیں۔

ملک بھر میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے منعقد کی جانے والی تقریبات پر اس دن لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔کچھ سیاسی مبصرین حکومت کی ان رسومات کو محض ایک مشق قرار دیتے ہیں۔

جو بھی جماعت حکومت میں ہوتی ہے اس بات کا دعویٰ کرتی ہے کہ اس سے پاکستان ہر سال اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور کشمیریوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ جس کی خاطر لاکھوں روپوں کے اخراجات ان کی نظر میں بےمعنی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد