’سودے بازی کرنے والا غدار ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف نے کہا کہ ’کشمیر کاز اور جوہری ایٹمی طاقت‘ پاکستان کے دو اہم مفادات ہیں اور جو ان پر سودے بازی کرے گا وہ غدار ہے۔ اور ان پر سودے بازی کا الزام لگانے والے لوگوں کے جذبات کو بھڑکانا چاہتے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کشمیر اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ ’یوم یکجہتیِ کشمیر‘ کے موقع پر صدر مشرف نے کہا کہ مسائل کے حل کے لئے جذباتی سیاست چھوڑنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’یوم یکجہتی کشمیر‘ کے تین مقاصد ہیں جن میں پاکستان اور کشمیر کی یکجہتی، اس عزم کا اعادہ کرنا کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں بھولے گا اور یہ کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا پر امن اور منصفانہ حل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کہ منصفانہ حل تک پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد کرتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ان پر سودے بازی کا الزام لگا رہے ہیں وہ مفاد پرست ہیں۔ ’وہ نہ خود کچھ کرنے کے قابل ہیں اور نہ کسی دوسرے کو کچھ کرنے دیں گے۔‘ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ ’ہم ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ اگر ہم صحیح قدم اٹھاتے رہے تو اسّی ہزار شہیدوں کی قربانی ضرور رنگ لائے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردی اور تحریک آزادی میں فرق کرتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے آزادی کی جدو جہد کو دہشت گردی نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ جہاد کے نام پر دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صدر مشرف نے بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کے بارے میں کہا کہ پہلی بار بھارت نے کشمیر کے تنازعہ کو تسلیم کیا ہے اور پہلی بار اس نے پاکستان کو اس مسئلے میں فریق سمجھا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||