پہلی بس پر سفر کرنے کی خواہش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے کچھ سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے سات اپریل سے شروع ہونے والی مظفرآباد سرینگر بس سروس میں سفر کرنے کے لیے سفارتی ذرائع سے ایک درخواست دی ہے۔ ان رہنماؤں میں نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ اور حکمران جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔ تاہم اس بات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ ان رہنماؤوں میں سے کوئی بھی سات اپریل کو مظفرآباد سے سرینگرآ پائے گا۔ ان رہنماؤوں کا نام اس بس میں سفر کرنے والوں کی اس حتمی فہرست میں شامل نہیں ہے جس کا تبادلہ پاکستان اور بھارت کے حکام نے تین روز قبل کیا تھا۔ یہ درخواست گزشتہ روز دی گئی تھی۔ اس نئ فہرست میں عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشمی کے نائب وزیر اعلیٰ منگت رام شرما، ڈیموکریٹک پارٹی کے رنگیل سنگھ، پینتھرز پارٹی کے بھیم سنگھ، کانگریس پارٹی مارکسسٹ کے ایم وائی تاراگن، نیشنل کانفرنس کے اے آر راتھر اور حکومت کے ایک وزیر پیرزادہ شامل ہیں۔ اس درخواست کے بارے میں جب دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس بارے میں ایک تجویز پیش کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سات اپریل کو چلنے والی بس میں ان رہنماؤوں کا نام نہیں تھا۔ ترجمان نے کہا کہ اس بس سروس کو شروع کرنے کا مقصد کشمیریوں کی مشکلات کو دور کرنا تھا اور لائن آف کنٹرول کے آر پار بچھڑے ہوئے کشمیریوں کو ملانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس بس سروس کو متنازعہ بنانا چاہتے ہیں اور پاکستانی حکومت اس تنازعہ کو بڑھانا نہیں چاہتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||