بس سروس پراعتراضات مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر سے مظفرآباد تک سات اپریل سے شروع ہونے والی بس سروس کے بارے میں کشمیری رہنما علی شاہ گیلانی کے خدشات مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس سے ’کنٹرول لائن، کی متنازعہ حیثیت متاثر نہیں ہوگی۔ پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ علی شاہ گیلانی قابل احترام شخصیت ہیں لیکن ان کا یہ خدشہ غلط ہے کہ بس سروس کی وجہ سے ’کنٹرول لائن، مستقل سرحد بن جائے گی۔ ان کے مطابق’لائن آف کنٹرول‘ ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور یہ کبھی مستقل سرحد نہیں بن سکتی۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے بس سروس شروع کرنے کے فیصلے سے قبل حریت سمیت تمام کشمیری رہنماؤں سے مشاورت کی تھی اور انہیں اعتماد میں بھی لیا تھا۔ واضح رہے کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سید علی شاہ گیلانی کی سربراہی میں قائم ’اے پی ایچ سی، پاکستان نواز جماعت ہے ۔ ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ جماعت پاکستان حکومت کے موقف کے برعکس بات کرے۔ جلیل عباس جیلانی نے امریکہ کی جانب سے ایف سولہ لڑاکا طیارے پاکستان کو دینے کے بارے میں کہا کہ یہ ایک ’کمرشل ڈیل، ہے۔ تاہم انہوں نے طیاروں کی تعداد اور قیمت سمیت دیگر تفصیلات کے متعلق کہا کہ ابھی وہ طئے کی جارہی ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات کو بھی غلط قرار دیا جن میں کہا جارہا ہے کہ ایف سولہ طیارے بنانے والی امریکی کمپنی’لاک ہیڈ مارٹن، کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے پاکستان کو یہ طیارے فروخت کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ نے پاکستان کو تو محض ایف سولہ طیارے دے رہا ہے لیکن اس کی نسبت بھارت کو بہت زیادہ جنگی سازوسامان فراہم کر رہا ہے تو ترجمان نے کہا کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ بھارت کو کیا دیا جارہا ہے۔ ’سینٹری فیوجز‘ کے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف عالمی جوہری ایجنسی تحقیقات نہیں کر رہی بلکہ انہوں نے دنیا کے کئی ممالک سے اس طرح کی مدد مانگی ہے۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو رد کیا جس میں کہا جارہا تھا کہ جوہری آلات دینے کے معاملے کے بعد ایف سولہ طیارے دیے جارہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورے میں جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے حوالے کرنے کی کوئی بات نہیں کی۔ حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بھارت کے دورے کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ وہ حکومت کا کوئی پیغام نہیں لے کر گئے بلکہ بھارت کی سیاسی قیادت کی دعوت پر گئے ہیں اور ان کا دورہ خیرسگالی کے تحت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے وزیراعظم پانچ سے سات اپریل تک پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں اور ان کی پاکستان میں مصروفیات کے بارے میں تفصیلات طے کی جارہی ہیں کہ انہوں نے گوادر بندرگاہ کا افتتاح کرنا ہے یا نہیں۔ چین کی مدد سے تعمیر کردہ گوادر بند گاہ کے افتتاح کے متعلق کچھ عرصہ پہلے حکومت نے بتایا تھا کہ چین کے وزیراعظم جب آئیں گے تو صدر جنرل پرویز مشرف ان کے ہمراہ نئی بندرگاہ کا افتتاح کریں گے۔ لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت ’سیکورٹی‘ کی وجہ سے شیڈول ظاہر نہیں کر رہی۔ ترجمان نے بتایا کہ ’ایشیا کوآپریشن ڈائیلاگ، یعنی ’اے سی ڈی‘ چھ اپریل کو اسلام آباد میں ہوگا جس میں چھبیس ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے۔ ان کے مطابق تاحال اٹھارہ ممالک کے وزراء خارجہ نے اس اجلاس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس ’ڈاییلاگ، کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سیاسی ارو اقتصادی شعبوں میں تعاون وسیع کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||