کشمیریوں کے خوابوں کا سفر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جموں کےمختلف دیہات کے کئی گھروں میں جشن کا سماں ہے اور سات اپریل کا بے چینی سے انتظار ہو رہا ہے۔ ان گھروں سے کوئی نہ کوئی سات اپریل کو مظفر آباد جانے والی بس پر سوار ہو کر دہائیوں پہلے بچھڑ جانے والے عزیزوں سے ملاقات کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جائے گا۔ ان گھروں کے مکینوں کو رشتہ دار اور دوست مبارکباد اور نیک تمنائیں دینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ مہمانوں کے استقبال کے لیے گھروں کو تازہ رنگ روغن کیا گیاہے۔ غلام فاطمہ غلام فاطمہ پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں کو بس سروس شروع کرنے پر دعائیں دیتی ہیں۔ وہ مظفر آباد اپنی بہو منیرا بی بی کے ساتھ جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائیوں اور ان کے بچوں کے لیے تحائف کے طور پر شہد، شالیں اور چوڑیاں لی ہیں۔ غلام فاطمہ کہتی ہیں کہ وہ ہر وہ چیز لے کر جائیں گی جس سے ان کی زمین کی خوشبو آتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے گھر اور علاقے کی تصاویر بھی لے کر جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بہت خوشی ہو گی اگر ان کے بھائی بھی آ کر اپنا آبائی گاؤں دیکھ سکیں۔ مراد پور گاؤں
مسافروں میں نوّے سالہ سید محمد بھی شامل ہیں جو میرپور میں اپنے بیٹی کے پاس جا رہے ہیں جس سے وہ آخری بار انیس سو پینسٹھ میں ملے تھے۔ ان کا بیٹا محمد غنی ان کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔ سید محمد کی بیٹی انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلی گئی تھیں۔ سید محمد کے نواسے ماجد خان نے جذباتی انداز میں بتایا کہ انہوں نے میرپور میں اپنے رشتے کے بھائی کے لیے کئی سالوں میں بچائے ہوئے پیسوں سے ایک انگوٹھی خریدی ہے۔ مرادپور سے سفر کرنے والے پچاس سالہ تاج محمد بھی بہت خوش ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کہا سفر کے اخراجات ان جیسے غریب لوگوں کے لیے بہت زیادہ ہیں۔ تاج محمد اپنی بہن سے ملنے جا رہے ہیں جو انیس سو پینسٹھ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلی گئی تھیں۔ ان خاندانوں کے لیے نئی بس سروس بڑی خبر ہے لیکن ان کا سفر بہت لمبا ہے۔ وہ پہلے جموں کے راستے سرینگر جائیں گے اور وہاں سے مظفرآباد روانہ ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||