BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھمکی واپس لینے کی اپیل

چکوٹھی سرینگر سڑک کی مرمت
چکوٹھی سرینگر سڑک کی مرمت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے ان چار عسکری تنظیموں سے اپیل کی ہے وہ اپنی دھمکی واپس لیں جس میں انھوں نے لوگوں کو
سرینگر اور مظفرآباد جانے والی بس میں سفر کرنے سے منع کیا ہے ۔

چار کشمیری تنظیموں العارفین ، المنصورین ، سیو کشمیر موومنٹ اور فرزندان ملت نے بدھ کے روز سرینگر میں مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ وہ کشمیری عوام کو ہمدردانہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس ’تابوت‘ میں سفر کرنے سے گریز کریں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سینیئر وزیر ممتاز گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیر کا یہ خطہ پرامن خطہ ہے اور یہ کہ مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان سفر کرنے والوں کو کشمیر کے اس علاقے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ اسکے باوجود انکے لیے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔

تاہم مسڑ گیلانی نے ان چار کشمیری عسکری تنظیموں سے اپیل کی ہے وہ اپنی دھمکی واپس لیں جس میں انھوں نے لوگوں کو اس بس میں سفر کرنے سے منع کیا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی دھمکی والپس لیں۔ انکو کو ایسی کوئی دھمکی نہیں دینی چاہیے اور ان کو ایسی کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ اپنے بھائیوں بہنوں اور رشتہ داروں کو کس لیے تابوت بنائیں گے ۔ کیا پہلے تابوت تھوڑے بنے ہیں وہاں پر؟‘

انھوں نے کہا کہ اس بس سروس کو کامیاب بنایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے کشمیر میں جاری جدوجہد کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ایک بھائی دوسرے بھائی کو ملنے کشمیر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جارہا ہے اس کا ہمیں خیر مقدم کرنا چاہیے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ پندرہ برسوں سے مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی عسکریت پسندوں کی دھمکی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ظہور احمد بٹ نے جو ان پناہ گزینوں کی ایک تنظیم کے سربراہ ہیں کہا کہ گزشتہ نصف صدی کے بعد کشمیریوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور دونوں جانب بچھڑے ہوئے کشمیری خاندان ایک دوسرے سے ملنے کے لیے بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ دھمکی جہاد نہیں بلکہ شر پسندی ہے ۔

پاکستان اور سرینگر کے درمیان 7 اپریل کو بس سروس کا آغاز ہوگا اور کشمیر کےدونوں طرف تیس تیس مسافر پہلی بس میں سفر کریں گے۔

مظفرآباد سے سرینگر جانے والی بس کے ممکنہ مسافروں نے عسکریت پسندوں کی دھمکی نظر انداز کردی ۔

شاہد بہار جن کے عزیز بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بارہ مولہ کے قریب دلنہ گاؤں میں رہتے ہیں مظفرآباد سے سرینگر جانے والی پہلی بس کے ممکنہ مسافر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم دھمکیوں سے بالکل خوفزدہ نہیں ہیں اور یہ کہ ہم انشاللہ اپنے عزیزوں سے ملنے کے لیے یہ سفر ضرور کریں گے۔انھوں نے کہا کہ کوئی دھمکی اس کے آڑے نہیں آسکتی ہے ۔ شاہد بہار کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی سفر کررہی ہیں۔

بدھ کے روز بھارت اور پاکستان کے حکام کے درمیان لائن آف کنڑول کے دونوں جانب کے مسافروں کی ایک ہفتہ قبل تبادلہ کی جانے والی فہرستوں کی تصدیق کے بعد واپسی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد