’میں یہاں بھی ہوں اور وہاں بھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں یوں تو ہزاروں خاندان ہیں جو منقسم ہیں لیکن ایسے لوگ کم ہیں جن کا کنٹرول لائن کے دونوں جانب دعوٰی ہے۔ سرینگر میں رہائش پذیر 96 سالہ راجہ محمد حسین خان کہتے ہیں کہ’میں یہاں بھی ہوں، میں وہاں بھی ہوں‘۔ محمد حسین خان کے آباء واجداد کا تعلق مظفرآباد کے ابور گاؤں سے ہے۔ وہ 1925 میں تعلیم کے سلسلے میں سری نگر آئے۔ اس زمانے میں پورے مظفرآباد میں ایک ہی مڈل اسکول ہوا کرتا تھا چناچہ چھٹی کا امتحان پاس کرنے کے بعد ساتویں میں داخلے کے لیے انہیں سرینگر آنا پڑا۔ سرینگر میں ہی میٹرک کیااور دو سال کالج میں بھی رہے۔ اس کے بعد بقول ان کے ’ نامساعد حالات کے سبب سروس جوائن کر لی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بہن بھائی میرا کنبہ وہیں تھا ۔1947 میں سارے راستے بند ہوگئے نتیجتاً میں وہاں نہیں جا سکا‘۔ 1984 میں بیمار بہن کو دیکھنے کے لیے ہندوستان کے پاسپورٹ پر مظفرآباد گیا۔ محمد حسین خان کا کہنا ہے کہ انہیں خود وہاں رکنا پڑا کیوں کہ ان کی جائیداد پر غیر قانونی قبضہ ہوگيا تھا۔ انہوں نے مقدمہ دائر کیا اور قبضہ حاصل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی یہاں بھی جائیداد ہے اور وہ ریاست جموں کشمیر کےشہری ہیں۔ مظفرآباد میں قیام کے دوران ان کے دو لڑکوں اور ایک لڑکی کی شادی بھی وہیں ہوئی۔ سنہ 2001 میں وہ واپس سرینگر آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میرے پاس دونوں ملکوں کا پاسپورٹ ہے۔وہاں والا یہاں دیا اور یہاں والا وہاں دیا‘۔ راجہ محمد حسین خاں کہتے ہیں کہ دونوں جگہ رہنے سے انہیں سرکاری کارکنوں نے بہت تنگ کیا۔ میں اسٹیٹ سبجیکٹ ہوں۔ یہاں کا باشندہ ہوں اور وہاں کا بھی باشندہ ہوں‘۔ پاکستان تو انہیں ریاست جموں کشمیر کا شہری تسلیم کرتا ہے لیکن ہندوستان نہیں۔ انہیں ملک بدر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عدالت نے مداخلت کی ۔ بس سروس کے آغاز پر وہ کہتے ہیں کہ ’ سری نگر مظفرآباد بس سے منقسم خاندانوں کوفائدہ ہوگا۔ تاہم یہ کسی کو وہم نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے کنٹرول لائن مستقل سرحد میں بدل جائے گی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے عوام کو یہ آزادی ہونی چاہیئے کہ وہ جہاں چاہیں جا سکیں جہاں چاہیں آباد ہو سکیں۔ ان کے خیال میں’ بندشیں عائد کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||