BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 April, 2005, 04:22 GMT 09:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسافر دھماکے سے زیادہ پریشان نہیں
بس پر سفر کے لیے فارم حاصل کرنے کی قطار
بس سروس کے اعلان کے بعد لوگوں میں اس کے لیے بہت دلچسپی دیکھی گئی تھی
کشمیر میں سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان چلنے والی بس کے بارے میں مثبت رائے دیکھنے میں آئی ہے اور منگل کو دھماکے کے باوجود لوگوں میں زیادہ رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔

پاکستان میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد لوگ میں یقینی طور پر تجسس پایا جاتا ہے کہ آیا دھماکہ حادثہ تھا، کسی نے حملہ کیا یا یہ کوئی پرانی بارودی سرنگ تھی جو پھٹ گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ کوئی مسافر اس دھماکے کے بعد بس پر سفر کرنے کا پروگرام منسوخ کرنے کی سوچ رہا ہو۔

مجوزہ راستے پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام حفاظتی انتظامات کے بارے میں پر اعتماد ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا کہ بس سروس کے خلاف دھمکیوں کا کچھ اثر تو ضرور ہے لیکن لوگ عام طور پر بس سروس کے بارے میں خوش ہیں اور اسے اچھی پیش رفت سمجھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد بھارتی حکام نے انتظامات سخت کر دیئے ہیں جس پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت بس سروس کے نام پر شہریوں کو حراساں کر رہی ہے۔

شکیل اختر نے کہا کہ جگہ جگہ ناکے لگائے جا رہے ہیں اور لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لوگوں کا خیال ہے کہ بس سروس اچھی چیز ہے لیکن اس کو مسئلے کا حل نہیں سمجھنا چاہیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ کشمیر میں منقسم خاندانوں کے علاوہ بھی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر بس سروس سے حالات بہتری کی طرف جاتے ہیں تو یہ ٹھیک ہے۔

ظفر عباس نے بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی اسی طرح کے جذبات پائے جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بس سروس کو مسئلے کا حل نہ سمجھا جائے۔

پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تاریخی بس سروس کا آغاز جمعرات سے ہو رہا ہے۔

اس سے قبل بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے بتایا تھا کہ بھارتی فوجیوں نے بس کے مجوزہ راستے پر نصب دو بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ یہ بارودی سرنگیں سری نگر سے پچیس کلومیٹر دور پلہالن نامی گاؤں کے نزدیک نصب کی گئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد