BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسافروں کا جگہ جگہ استقبال

News image
سری نگر سے مظفرآباد کے لیے چلنے والی پہلی سفید رنگ کی بس سرخ پھولوں سے سجی اُنیس کشمیری مسافروں کو لے کر سہ پہر تقریبا سوا تین بجے لائن آف کنٹرول پہنچی جہاں سے تقریبا پونے چار بجے یہ مسافر کنٹرول لائن پر بنے لال پُل کو پیدل پار کرکے چکوٹھی میں داخل ہوگئے۔

مسافروں کے سرحد پار کرتے ہوئے دونوں جانب سے سفید جھنڈے لہرائے گئے۔ جب ان کشمیریوں نے سرحد پار کی تو بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی پل پر چلتے ہوئے خاصی اندر آگئیں۔

اس راستے کو تقریبا اٹھاون برسوں کے بعد بحال کیا گیا ہے اور لائن آف کنٹرول پر پرانے لال پل کی جگہ نیا پُل بنایا گیا ہے۔

ان مسافروں کو ایک بس میں بٹھا کر اس ٹرمینل میں لے جایا گیا جہاں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور وزیراعظم سردار سکندر حیات نے ان کے لیے استقبالیہ کا اہتمام کیا تھا۔لوگوں نے کشمیری مسافروں کا والہانہ استقبال کیا اور اُن پر گلاب کی پتیاں اور پھول برسائے گئے۔

سری نگر سے آنے والے مسافر خاصے جذباتی اور خوش نطر آرہے تھے۔ ایک بزرگ سے جب سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ یہاں سب اُن کے رشتے دار ہیں اور وہ اپنی بیٹی سے ملنے یہاں آئے ہیں۔ ایک اور مسافر خالد حسین نے کہا کہ کہ وہ میرپور میں رہنے والے اپنے پھوپھی زاد بھائی اور انکے خاندان سے ملنے آئے ہیں۔

مظفرآباد میں بس ٹرمینل پر اپنے رشتے داروں کا استقبال کے لیے آئے ہوئے ایک شخص نے کہا ہم خوش ہیں۔ آج ہمارے اپنے ہم سے ملنے اپنے گھر آرہے ہیں۔

اس سے پہلے مظفرآباد سے چلنے والی بس کے ذریعے تیس کشمیری مسافر چکوٹھی پہنچنے کے بعد تقریبا سو ایک بجے پُل پار کرکے ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں کمان سرحدی چوکی میں داخل ہوئے تھے اور تقریبا چار بجے وہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقہ سلام آباد پہنچے جہاں ان کے لیے رنگا رنگ استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔

جب مظفرآباد سے جانے والےکشمیریوں نے کنٹرول لائن پار کی تو ان میں سے کچھ نے پار کی زمین کو بوسہ دیا اور اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی۔اس موقع پر خاصے جذباتی منظر دیکھنے میں آئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد