BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 April, 2005, 06:31 GMT 11:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پانچ دہائیوں کے بعد لائن آف کنٹرول عبور

News image
ہزاروں افراد کے خیرمقدم کے درمیان ستاون برس کے تعطل کے بعد سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان چلنے والی بس کے مسافروں نے جمعرات کی سہہ پہر لائن آف کنٹرول عبور کر لی۔

سری نگر سے چلنے والی بس مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب مظفرآباد پہنچی جہاں مسافروں کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھاجبکہ مظفرآباد سے سری نگر کی طرف سفر کرنے والی بس کے لیے شام کو ڈھل جھیل کے پاس استقبالیے کا انتظام تھا۔

لائن آف کنٹرول پرمظفر آباد سے روانہ ہونے والے کشمیری مسافروں کا استقبال بھارتی فوج کے بینڈ نے کیا۔

اس سے پہلے سرینگر اور مظفر آباد سے دو مختلف بسیں مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے بھارت اور پاکستان کی طرف روانہ ہوگئیں۔

سری نگر سے مظفر آباد چلنے والی بس شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم سے جبکہ مظفر آباد سے چلنے والی بس وزیرِ اعظم سیکریٹیریٹ سے راونہ ہوئیں۔

ہماے نامہ نگار الطاف حسین نے سری نگر سے بتایا ہے کہ شیرِ کشمیر سٹیڈیم کے ارد گرد انتہائی سخت حفاظتی کیے گئے تھے۔ سری نگر سے پہلی بس روانہ ہونے کے بعد ایک اور بس بھی مظفر آباد کی طرف چل پڑی۔

امن کا کارواں روانہ
 امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ

مظفر آباد سے ہمارے نامہ نگاروں مظہر زیدی اور ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق پہلی بس صبح گیارہ بجے چلی جسے الوداع کہنے کے لیے سڑک پر جلوس کی صورت میں ہزاروں افراد موجود تھے۔

سرینگر میں مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی بھی وہیں موجود تھیں۔ ادھر مظفر آباد میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات خان نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والے مسافروں کو الوداع کہا۔

سرینگر میں بارش کے باوجود بس کی روانگی کا منظر دیکھنے کی غرض سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کی اس اہم ترین علامت خیر مقدم کیا۔

اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ’امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

News image
منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی بس کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

گزشتہ روز شدت پسندوں کے حملے اور بس کے مسافروں کو مسلسل ملنے والی ان دھمکیوں کے پیش نظر کہ بس کو ’تابوت‘ بنا دیا جائے گا، شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات کیے گئے تھے جن کی حالیہ ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

مظفرآباد میں بس کی روانگی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ بس روانہ ہونے سے قبل مسافروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

مظفر آباد سے چلنے والی بس چکوٹھی تک جائے گی جہاں سے نیا ڈرائیور اسے منزلِ مقصود تک لے کر جائے گا۔ تاہم مظفر آباد سے بس لے جانے والے ڈرائیور کی خواہش ہے کہ چکوٹھی سے آگے بھی اسے ہی بس چلانے کی اجازت دی جائے۔

اس سے قبل سرینگر میں حملے کے باوجود انڈیا اور پاکستان دونوں نے بسوں کے چلانے جبکہ مسافروں نے سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

بس ڈرائیور پرویزتاریخی بس چلاؤں گا
میں بچھڑے ہوئے لوگوں کو آپس میں ملاؤں گا‘
کشمیرکشمیر، شرح و معیار
شرح خواندگی اور معیار میں باہمی اتفاق نہیں
غلام فاطمہ مظفر آباد جانے کی تیاری میںخوابوں کا سفر
کشمیری خوابوں کے سفر کی تیاری میں
پناہ گزین کیمپپناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
کشمیر’کامسر‘ مہاجر کیمپ
کمشیر کاحل، مہاجر بھی متفق نہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد