پانچ دہائیوں کے بعد لائن آف کنٹرول عبور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہزاروں افراد کے خیرمقدم کے درمیان ستاون برس کے تعطل کے بعد سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان چلنے والی بس کے مسافروں نے جمعرات کی سہہ پہر لائن آف کنٹرول عبور کر لی۔ سری نگر سے چلنے والی بس مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب مظفرآباد پہنچی جہاں مسافروں کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھاجبکہ مظفرآباد سے سری نگر کی طرف سفر کرنے والی بس کے لیے شام کو ڈھل جھیل کے پاس استقبالیے کا انتظام تھا۔ لائن آف کنٹرول پرمظفر آباد سے روانہ ہونے والے کشمیری مسافروں کا استقبال بھارتی فوج کے بینڈ نے کیا۔ اس سے پہلے سرینگر اور مظفر آباد سے دو مختلف بسیں مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے بھارت اور پاکستان کی طرف روانہ ہوگئیں۔ سری نگر سے مظفر آباد چلنے والی بس شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم سے جبکہ مظفر آباد سے چلنے والی بس وزیرِ اعظم سیکریٹیریٹ سے راونہ ہوئیں۔ ہماے نامہ نگار الطاف حسین نے سری نگر سے بتایا ہے کہ شیرِ کشمیر سٹیڈیم کے ارد گرد انتہائی سخت حفاظتی کیے گئے تھے۔ سری نگر سے پہلی بس روانہ ہونے کے بعد ایک اور بس بھی مظفر آباد کی طرف چل پڑی۔
مظفر آباد سے ہمارے نامہ نگاروں مظہر زیدی اور ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ مقامی وقت کے مطابق پہلی بس صبح گیارہ بجے چلی جسے الوداع کہنے کے لیے سڑک پر جلوس کی صورت میں ہزاروں افراد موجود تھے۔ سرینگر میں مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی بھی وہیں موجود تھیں۔ ادھر مظفر آباد میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم سردار سکندر حیات خان نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر جانے والے مسافروں کو الوداع کہا۔ سرینگر میں بارش کے باوجود بس کی روانگی کا منظر دیکھنے کی غرض سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کی اس اہم ترین علامت خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ’امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔‘
گزشتہ روز شدت پسندوں کے حملے اور بس کے مسافروں کو مسلسل ملنے والی ان دھمکیوں کے پیش نظر کہ بس کو ’تابوت‘ بنا دیا جائے گا، شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات کیے گئے تھے جن کی حالیہ ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مظفرآباد میں بس کی روانگی کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ بس روانہ ہونے سے قبل مسافروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ مظفر آباد سے چلنے والی بس چکوٹھی تک جائے گی جہاں سے نیا ڈرائیور اسے منزلِ مقصود تک لے کر جائے گا۔ تاہم مظفر آباد سے بس لے جانے والے ڈرائیور کی خواہش ہے کہ چکوٹھی سے آگے بھی اسے ہی بس چلانے کی اجازت دی جائے۔ اس سے قبل سرینگر میں حملے کے باوجود انڈیا اور پاکستان دونوں نے بسوں کے چلانے جبکہ مسافروں نے سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||