BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 April, 2005, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بس چلی تو ضرور جائیں گے‘

News image
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں سری نگر کے ٹورسٹ ریسیپشن سنٹر پر حملے کی خبر ایک ایسے وقت پر پہنچی جب علاقے کی پوری انتظامیہ جمعرات کے روز سری نگر جانے والی بس کی روانگی کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی تھی اور سفر کرنے والے تیس مسافروں میں سے ستائیس کو پرمٹ بھی جاری کئے جا چکے تھے۔

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد جمعرات کے روز سری نگر جانے والے مسافر جو پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنی تیاریوں کو آخری شکل دے رہے تھے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

عابدہ مسعودی ، جو بیس سال بعد اپنے والدین کو ملنے سری نگر جانے والی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اگر بس چلی تو وہ اس میں ضرور سفر کریں گی اگر میری قسمت میں مرنا اسی طرح لکھا ہے تو ایسے ہی صحیح‘۔

نثار راتھر بھی انہی مسافروں میں شامل ہیں جن کا اصرار ہے کہ اگر بس چلی تو وہ اپنا سفر ضرور کریں گے۔ ’میری فیملی اس معاملے پر ابھی خاموش ہے لیکن اگر بس چلی تو میں ضرور جاؤں گا۔’

اسی طرح امجد خان کا کہنا ہے کہ وہاں (بھارت کے زیر انتظام کشمیر) میں اور بھی لوگ رہ رہے ہیں اور وہ اب بھی اپنا سفر جاری رکھنے پر قائم ہیں۔ لیکن امجد خان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ سری نگر میں اپنے رشتہ داروں سے مشورہ کریں گے اور اپنے بیٹے کی زندگی خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔

لیکن ایسے مسافر بھی ہیں جو اس خبر کے آنے کے چند گھنٹوں بعد ہی اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کررہے ہیں۔ شاہد بہار کے بھائی نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی کے جمعرات کے روز سری نگر جانے کے سوال پر ان کے خاندان میں پہلے ہی بحث شروع ہوگئی ہے۔

مظفر آباد میں جہاں بڑی تعداد میں میڈیا کے اہلکار موجود ہیں یہ بحث زوروں سے جاری ہے کہ جمعرات کے بعد بس جائے گی یا نہیں۔ تاہم انتظامیہ ابھی تک اس پر خاموش ہے اور وزات خارجہ کے ترجمان جلیل عباس نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان کے وز یر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی اس کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بچھڑے ہوئے کشمیری خاندانوں کو ملنے سے روکنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد