 |  بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا |
ستاون برس کے تعطل کے بعد سرینگر سے چلنے والی پہلی بس مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے مظفر آباد کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔ بس اپنے مقررہ وقت پر شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم سے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان روانہ ہوئی۔ اس کے بعد ایک اور بس بھی مظفر آباد کی طرف چل پڑی۔  | امن کا کارواں روانہ  امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔  بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ |
ہمارے نامہ نگار الطاف حسین نے سرینگر سے بتایا ہے کہ مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی بھی وہیں موجود تھیں۔ سرینگر میں بارش کے باوجود بس کی روانگی کا منظر دیکھنے کی غرض سے ڈھائی ہزار افراد موجود تھے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی کی اس اہم ترین علامت خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ’امن کا کارواں چل پڑا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔‘ گزشتہ روز شدت پسندوں کے حملے اور بس کے مسافروں کو مسلسل ملنے والی ان دھمکیوں کے پیش نظر کہ بس کو ’تابوت‘ بنا دیا جائے گا، شیرِ کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں سکیورٹی کے ایسے انتظامات کیے گئے تھے جن کی حالیہ ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق دونوں بسوں میں چوبیس مسافر سوار ہیں۔ مظفرآباد جانے والی اِن بسوں کو مالاؤں سے سجایا گیا ہے۔ اس سے قبل سرینگر میں حملے کے باوجود انڈیا اور پاکستان دونوں نے بسوں کے چلانے جبکہ مسافروں نے سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ |