’یہ منزل کی جانب ایک قدم ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چہروں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں آنسو لیے کشمیری مسافروں کو لے کر صبح تقریبا گیارہ بجے مظفر آباد سے پہلی بس سری نگر کے لیے روانہ ہوگئی۔ یوں مظفرآباد سے سری نگر کے درمیان انیس سو ترپن سے بند وادی جہلم کی سڑک کا راستہ ایک بار پھر کُھل گیا۔ آج مظفرآباد میں عام تعطیل ہے اور سینکڑوں لوگ سری نگر جانے والی بس کو دیکھنے کے لیے چھتر بس ٹرمینل کے گرد جمع تھے جہاں پولیس کی بھاری نفری حفاظتی اقدام کے طور پر تعینات تھی۔ بس ٹرمینل پر رنگ برنگے جھنڈے لگائے گئے تھے اور بینرز آویزاں تھے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ مسافروں کو الوداع کہنے کے لیے بس ٹرمینل پر پاکستان کے زیر انتطام کشمیر کے وزیراعظم سکندر حیات خان، مسلم کانفرنس پارٹی کے قائد سردار عبدالقیوم اور حکومتی پارٹی اور حزب اختلاف کے قائدین جمع تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے مسافروں کی حفاظت کے لیے دعا کی اور انہیں گلاب کے پھولوں کے ہار پہنائے۔جب بس چلی تو بہت سے لوگ بھاگتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دور تک گئے۔
بس پر سفر کرنے والی ایک بوڑھی عورت نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو سرحد پار اپنے رشتے داروں سے ملا دوں۔ایک اور مسافر نے کہا کہ ان کے بہن بھائی سب وہاں پر ہیں اور وہ ان سے ملنے جا رہے ہیں۔ مسافروں نے حفاظتی اقدامات کے بارے میں زیادہ تشویش کا اظہار نہیں کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات نے کہا کہ یہ بس سروس کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منزل کی جانب ایک قدم ہے منزل نہیں۔ انہوں نے بس سروس پر تحفطات رکھنے والوں سے کہا کہ تاریخ میں قوموں کو ایسے مواقع کم ملتے ہیں اور جو قومیں موقعہ ضائع کردیتی ہیں وہ صدیوں بھٹکتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کشمیری تنظیموں سے کہا کہ وہ ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس سے اُن کی قربانیوں کو نقصان پہنچے۔ سکندر حیات نے کہا کہ ہم پچاس سال بندوق کے ذریعے لائن آف کنٹرول پار نہیں کرسکے لیکن آج کشمیری ایک سیاسی عمل کے ذریعے لائن آف کنٹرول پار کررہے ہیں جو ان کی فتح ہے۔ انہوں صدر جنرل پرویز مشرف کو اس بس سروس کے شروع کروانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر منقسم خاندانوں کا تعلق راجوڑی، ڈوڈہ وغیرہ سے ہے اور مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان راستہ کھولنے کے ساتھ ساتھ دوسرے راستے بھی کھولے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ پندرہ دنوں میں ایک بس سروس کافی نہیں اسلیے کشمیریوں کو دونوں طرف آزادانہ آنے جانے کی اجازت دی جائے اور ہوائی راستہ کھولا جائے۔ مظفرآباد سے سری نگر جانے والے مسافر اکسٹھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے چکوٹھی بازار کے قریب پہنچیں گے اور پیدل وہ پُل عبور کریں گے جو پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کو بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے جُدا کرتا ہے۔
بس کے مظفرآباد سے چکوٹھی میں لائن آف کنٹرول پر دوسری طرف واقع شہر اُڑی سے ملانے والا لال پُل تک راستے پر عام نجی ٹرانسپورٹ کو کل رات سے جانے سے روک دیا گیا ہے اور جگہ جگہ کمانڈو پولیس کے دستے تعینات ہیں اور کرفیو کا سماں ہے۔ راستے میں پولیس کی سات چیک پوسٹیں بنائی گئی ہیں۔ راستے میں چناری، ہٹیاں بالا اور چکوٹھی قصبوں میں خیرمقدمی بینرز لگے ہوئے ہیں اور بازاروں میں سجاوٹی جھنڈیاں لگائی گئی ہیں۔ مظفرآباد سے چکوٹھی تک سڑک کو بہتر بنانے کے لیے کشمیر حکومت نے پندرہ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ سہ پہر تقریبا ایک بجے لال پُل کے دوسری طرف پہنچنے پر کشمیری مسافر بھارتی مہمان ہونگے اور انہیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی طرف سے چلائی جانے والی بس سروس کے ذریعے سری نگر لے جایا جائے گا۔ سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان اس سڑک کے ذریعے راستہ ایک سو چوراسی کلومیٹر ہے اور نو اہم شہر اس راستے پر واقع ہیں۔ یہ بس سروس بھارت اور پاکستان کے حکومتوں کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت شروع کی گئی ہے جس میں سرحد کے دونوں پار رہنے والے کشمیری مسافر سرحد پار جانے کے لیے پاسپورٹ کے بجائے ایک خصوصی پرمٹ پر سفر کررہے ہیں۔ اس بس سروس سے صرف کشمیری سفر کرسکتے ہیں۔ بس سروس سے ایک دن پہلے مظفرآباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیاگیا تھا جس میں شریک محتلف سیاسی جماعتوں نے بس سروس کا خیر مقدم کیا اور اسے کشمیر کے مسئلہ کے حل کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔تاہم انہوں نے کہا کہ بس سروس یہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا نعم البدل نہیں۔ اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بزرگ کشمیری قائد سردار عبدالقیوم نے کہا تھا کہ بس سروس کے سلسلہ میں جو دھمکیاں مل رہی ہیں یہ اچھا نہیں اور بھائیوں کو مارنا اسلام نہیں، اس کا فائدہ بھارت کو ہوگا۔ تاہم جموں و کمشیر پیپلز کانفرنس کے صدر خالد ابراہیم نے کہا ہے کہ بس سروس منقسم خاندانوں کو آپس میں ملانے کے لیے کارآمد ہوسکتی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاستدان نے بس کے ذریعے سری نگر جانے کی غلطی کی تو بھارت کو دنیا کو کہے گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوگیا۔ پاکستان کے زیر انتظام کمشیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان اس بس سروس کی مخالفت کرنے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بس سروس ایل او سی کو نفسیاتی طور پر بین الاقوامی سرحد ماننے کے مترادف ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان بحالی اقدامات سے تحریک آزادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین نے بھی بس سروس کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان بس سروس کشمیریوں کے حق خودارادیت اور ریاست کی جغرافیائی سالمیت کی بحالی کے لیے دیر سے اثر کرنے والا میٹھا زہر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بس سروس کی حمایت کرکے دونوں طرف کشمیریوں کی روایتی قیادت مرکزی حکومتوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جماعت اسلامی کے امیر سردار اعجاز افضل خان نے کہا ہے کہ اگر بس سروس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے رائے شماری نہ کرائی گئی تو یہ بس زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے سیز فائر لائن کو روند کر آنے والے کشمیریوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||