ریاست ہائےمتحدہ کشمیر کی تجویز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اہم سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اندرونی طور پر خودمختار پانچ یا سات یونٹس پر مشتمل ریاست ہائے متحدہ کشمیر کی تجویز ہی ایک ایسی تجویز ہے جس پر فی الوقت عمل ہوسکتا ہے ۔ سردار عبدالقیوم خان کی طرف سے اس تجویز کی حمایت میں بیان ایسے مرحلے پر آیا جب مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مقامی اور بین الااقوامی سطح پر کئی تجاویز زیر بحث ہیں۔ انہوں نے کہا ہے’ اس کا تصور یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی پانچ یا سات یونٹس بنائے جائیں اور ان کو مکمل داخلی خودمختاری ہو ۔ پاکستان اور ہندوستان کی فوجوں کا مکمل انخلا ہو۔ یہ داخلی طور پر خودمختار یونٹس مل کر ایک مرکزی اتھارٹی منتخب کریں جو خودمختار ہو لیکن اس کا بین الااقوامی تشخص نہ ہو۔‘ سردار قیوم نے کہا کہ ’اس پر ہندوستان اور پاکستان کا مشترکہ کنڑول یا نگرانی نہ ہو بلکہ دونوں ملکوں کی مشترکہ رابطہ کاری ہو۔‘ ان کے کہنے کے مطابق یہ ایک قسم کا ریاست ہائے متحدہ کشمیر بنتا ہےاور یوں کشمیر کا تشخص اور یکجہتی برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بھی ختم ہو سکتا ہے اور کشمیریوں کو بھی راحت مل سکتی ہے ۔ اس تجویز پر عمل درآمد سے سردار عبدالقیوم کے کہنے کے مطابق مسئلہ کشمیر بھی اگر سو فیصد نہیں تو نوے فیصد حل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ میرے نزدیک بہت قرین امکان ہے اور یہی بات ہے اور وہ سب چیزیں جو ہم کہتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہئے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے وہ سب چیزیں اس حل یا اس تجویز میں اکاموڈیٹ ہوتی ہیں۔‘ حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی طرف سے اس طرح کی تجویز کی حمایت ایک اہم پیش رفت تصور کی جارہی وہ اس لیے کہ یہ جماعت ریاست جموں کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق پر یقین رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حل تک پہچنے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان اپنے سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے کا خاتمہ کریں، کشمیر کے دونوں طرف کے رہنماؤں کو آپس میں ملانے کا اہتمام کریں اور ہندوستان اسکی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||