BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 May, 2005, 20:09 GMT 01:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریاست ہائےمتحدہ کشمیر کی تجویز

News image
سردار قیوم سے اس تجویز کی حمایت کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اہم سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان نے کہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اندرونی طور پر خودمختار پانچ یا سات یونٹس پر مشتمل ریاست ہائے متحدہ کشمیر کی تجویز ہی ایک ایسی تجویز ہے جس پر فی الوقت عمل ہوسکتا ہے ۔

سردار عبدالقیوم خان کی طرف سے اس تجویز کی حمایت میں بیان ایسے مرحلے پر آیا جب مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مقامی اور بین الااقوامی سطح پر کئی تجاویز زیر بحث ہیں۔

انہوں نے کہا ہے’ اس کا تصور یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی پانچ یا سات یونٹس بنائے جائیں اور ان کو مکمل داخلی خودمختاری ہو ۔ پاکستان اور ہندوستان کی فوجوں کا مکمل انخلا ہو۔ یہ داخلی طور پر خودمختار یونٹس مل کر ایک مرکزی اتھارٹی منتخب کریں جو خودمختار ہو لیکن اس کا بین الااقوامی تشخص نہ ہو۔‘

سردار قیوم نے کہا کہ ’اس پر ہندوستان اور پاکستان کا مشترکہ کنڑول یا نگرانی نہ ہو بلکہ دونوں ملکوں کی مشترکہ رابطہ کاری ہو۔‘ ان کے کہنے کے مطابق یہ ایک قسم کا ریاست ہائے متحدہ کشمیر بنتا ہےاور یوں کشمیر کا تشخص اور یکجہتی برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بھی ختم ہو سکتا ہے اور کشمیریوں کو بھی راحت مل سکتی ہے ۔ اس تجویز پر عمل درآمد سے سردار عبدالقیوم کے کہنے کے مطابق مسئلہ کشمیر بھی اگر سو فیصد نہیں تو نوے فیصد حل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ یہ میرے نزدیک بہت قرین امکان ہے اور یہی بات ہے اور وہ سب چیزیں جو ہم کہتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہئے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے وہ سب چیزیں اس حل یا اس تجویز میں اکاموڈیٹ ہوتی ہیں۔‘

حکمران جماعت مسلم کانفرنس کی طرف سے اس طرح کی تجویز کی حمایت ایک اہم پیش رفت تصور کی جارہی وہ اس لیے کہ یہ جماعت ریاست جموں کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق پر یقین رکھتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس حل تک پہچنے کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے ہندوستان اور پاکستان اپنے سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈے کا خاتمہ کریں، کشمیر کے دونوں طرف کے رہنماؤں کو آپس میں ملانے کا اہتمام کریں اور ہندوستان اسکی جیلوں میں قید کشمیریوں کو رہا کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد