’کشمیر درجہ بندی کا علم نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات نے کہا ہے کہ کشمیر کی سات حصوں میں درجہ بندی کے متعلق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی تجویز کے بارے میں ابھی تک ان سے بات ہی نہیں کی۔ روزنامہ اوصاف کے زیرانتظام مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں بلائی گئی گول میز کانفرنس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کے بارے میں مذاکرات میں کشمیریوں کو فریق کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ سردار سکندر حیات نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں کہا ہے کہ جب تنازعے کے حل پر بات چیت ہوگی تو ان کی رائے بھی شامل کی جائے گی۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ سال اکتوبر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک فارمولہ پیش کیا تھا کہ کشمیر کی مذہبی، جغرافیائی اور لسانی بنیادوں پر سات حصوں میں درجہ بندی کی جاسکتی ہے اور پھر یہ طے کیا جاسکتا ہے کہ کون سا حصہ بھارت اور کون سا پاکستان کے زیرانتظام رہے اور کس حصے کو مکمل خودمختاری دی جائے۔ سردار سکندر حیات نے کہا کہ وہ کشمیر کی تقسیم کے مخالف ہیں اور صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی تجویز کے بارے میں جب ان سے مشاورت کی تو وہ اپنی رائے پیش کریں گے۔ فی الحال اس ضمن میں وہ کچھ بھی کہنا قبل از وقت سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جب بھی صدر مملکت باہر جاتے ہیں تو ان سے مشاورت کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں کہا کہ وہ اس دن مطمئن ہوں گے جس دن تینوں فریقین کا بھرم رکھتے ہوئے قابل قبول حل نکلے گا۔ لیکن انہوں نے ساتھ ہی زور دے کر کہا کہ کسی بھی فریق کی سو فیصد خواہش کے مطابق کبھی حل نہیں نکل سکتا۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بھی کہا کہ کشمیر کا ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو پاکستان، بھارت اور کشمریوں کے لیے قابل قبول ہو اور سب کا بھرم رہ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باوجود اس کے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے کی ابھی ابتدائی سطح پر ہے لیکن تاریخ کے اہم موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے فلسطین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا اور آخری وقت میں انہوں نے کہا کہ فی الحال جو مل رہا ہے وہ ہی لے لو۔ اس لیے ان کے بقول کشمیریوں کو موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے اور صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس موقع پر سردار عبدالقیوم خان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی پیپلز پارٹی کے محمد مطلوب انقلابی اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے امان اللہ خان بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی کشمیر کی تقسیم کی سختی سے مخالفت کی۔ مقررین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اب انہیں کافی امید ہوچلی ہے کہ شاید مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکل آئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||