BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 March, 2005, 19:27 GMT 00:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری مہاجرین اور خفیہ کے اہلکار

کشمیری مہاجرین کہتے ہیں کہ وہ بھارتی فوج کے واپس جانے سے پہلے بھارت کے زیر انتظام کشمیر واپس نہیں جانا چاہیں گے
کشمیری مہاجرین کہتے ہیں کہ وہ بھارتی فوج کے واپس جانے سے پہلے بھارت کے زیر انتظام کشمیر واپس نہیں جانا چاہیں گے
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد شہر سے تھوڑے ہی فاصلے پر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے کشمیری مہاجرین کا ’ کام سر‘ نامی ایک کیمپ ہے۔

مختلف ادوار میں بھارتی افواج کے ’مظالم‘ سے تنگ ہوکر سرحد عبور کرکے اس پار آنے والے کشمیری مہاجرین کی کل تعداد پچیس ہزار کے لگ بھگ ہے جو مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔

لیکن دریائے نیلم کے کنارے واقع ’کام سر، کیمپ میں تین سو ستر خاندان رہائش پذیر ہیں جو تئیس سو ساٹھ نفوس پر مشتمل ہیں۔

کیمپ کا نام لیتے ہی ذہن میں تنبو وغیرہ کا تصور پیدا ہوتا ہے لیکن کشمیری مہاجرین کے کیمپوں کی صورتحال اس سے برعکس ہے۔ کام سر سمیت مختف کیمپوں میں رہائش پذیر مہاجرین نے اپنے پکے مکان تعمیر کر لیے ہیں۔

’کام سر، کیمپ کے رہائشی راجہ اظہار سیمینٹ سے تعمیر کردہ بیٹھک میں پہنچے تو کشمیری دستکاری کے نمونوں والے کمبل بچھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ساڑھے سات سو فی کس مہاجرین کو ماہانہ اخراجات کے مد میں ادا کرتی ہے۔

ساٹھ برس سے زیادہ عمر والے راجہ اظہار اور ان کی گریجوئیشن کرنے والی صاحبزادی نصرت اظہار سمیت بیٹھک میں موجود خواتین نیز مرد حضرات سے جب بات چیت کی تو ان سب کا موقف ایک ہی تھا کہ ’سرینگر سے مظفرآباد تک بس سروس کی بحالی کے باوجود بھی وہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک بھارتی فوج واپس نہیں جائےگی۔

ان کی اس بات سے ایسا لگا کہ جیسے انہیں وہ باتیں کرنے کی کوئی تربیت دی گئی ہے۔ یہی سوال ان سے جب کیا تو مسکراتے ہوئے انہوں نے تردید کی۔

مظفرآباد میں کہیں بھی جاتے ہوئے خفیہ ایجنسی کے اہلکار ہمارے سائے کی طرح ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
کام سر کیمپ کی اس بیٹھک میں بھی خفیہ والے ساتھ بیٹھے رہے اور جب ایک موقع پر میں نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان کی وجہ سے آپ لوگ کھل کر بات نہیں کرپارہے ہیں تو کشمیری مہاجرین اور خفیہ والے ہنس پڑے اور کہا کہ ایسی بات نہیں۔

راجہ اظہار سے جب پوچھا کہ کیا ان کے زیراستعمال ’ہائی روف، سوزوکی گاڑی خفیہ والوں نے دی ہے تو تھوڑا سا غصہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نہیں!۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا چھوٹا بھائی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ڈپٹی کمشنر ہیں اور کارگل جنگ میں مارے جانے والے اپنے بھائی کی رسومات میں شرکت کے دوران دی گئی رقم سے انہوں نے گاڑی خریدلی ہے۔

تیس برس کی نسرین نے بتایا کہ ان کے شوہر اب بھی پار یعنی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس میں ’ڈی ایس پی، ہیں اور ان سے انہیں دوبچے ہیں جو ان کے ساتھ کیمپ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے دوسری شادی کرلی ہے لیکن نسرین خود کے لیے دوسری شادی کو گناہ سمجھ رہی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ واپس پار جانے کے لیے انہوں نے بس سروس کا ٹکٹ لینے کے لیے درخواست دی ہے اور وہ اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔

ایک دوسرے کیمپ میں رہنے والے محمد اقبال خان کا موقف راجہ اظہار سے خاصہ مختلف تھا اور انہوں نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت دونوں کا کوئی حق نہیں ہے اور کشمیر کشمیریوں کا ہے۔ انہوں نے مسئلے کے حل کے بارے میں کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر سے پیچھے ہٹ جائیں، کشمیریوں کو دس پندرہ برس کے لیے اقوام متحدہ کے حوالے کریں اور اس کے بعد رائے شماری کرائی جائے۔

کیمپوں میں رہنے والے کشمری مہاجرین نے شناختی کارڈ بھی پاکستان کا حاصل کرلیاہے اور املاک بھی خریدی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ خود کو مہاجرین کہتے ہیں۔

سات اپریل کو سرینگر سے مطفرآباد تک بس سروس کی بحالی کے بارے میں بیشتر کشمیری مہاجرین خوش تو تھے لیکن کئی ایسے بھی تھے جنہیں شکایت تھی کہ حکومت من پسند افراد کو اجازت نامے جاری کر رہی ہے اور اس میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کا کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کے ایسے الزامات کی حکومتی نمائندے سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ قرعہ اندازی کے بعد اجازت نامے جاری کرتے ہیں۔

برسوں سے اپنے رشتہ داروں سے دور رہنے والے کشمیری مہاجرین کی اجازت ناموں کے متعلق شکایات اپنی جگہ لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری مزاکرات سے وہ خاصے خوش تھے۔

راجہ اظہار اور اقبال احمد نے بتایا کہ مزاکرات سے کشیدہ حالات میں بہتری آئی ہے اور وہ نیلم ویلی میں دریائے نیلم کے کنارے جمع ہوتے ہیں اور دوسری جانب ان کے رشتہ دار آتے ہیں۔ دونوں جانب کی افواج انہیں تنگ نہیں کرتیں اور وہ باآواز بلند ایک دوسرے سے جہاں بات کرتے ہیں وہاں پتھر کے ساتھ خطوط باندھ کر ایک دوسرے کو پھینکتے ہیں۔

ان کے مطابق کئی بار تو دونوں جانب کے کشمیری شادیاں بھی نیلم کنارے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد