BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 May, 2005, 01:56 GMT 06:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملازمین کی بس کب چلے گی؟

News image
کئی ملازمین کے خاندان کے دوسرے افراد کو سرینگر جانے کی اجازت مل چکی ہے
سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان تیسری بس کے مسافر بخریت اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ چکے ہیں۔

لیکن ابھی تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی بھی سرکاری ملازم کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کے لئے اجازت نہیں دی گئی ہے جس کے باعث بٹے ہوئے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین غم غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جن لوگوں کو اب تک بس کے ذریعے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانے کی اجازت دی گئی ہے ان میں کشمیر کے اس علاقے کے کسی بھی سرکاری محکمے کا کوئی بھی ملازم شامل نہیں ہے۔ البتہ کئی ملازمین کے خاندان کے دوسرے افراد کو اجازت مل چکی ہے۔

بشریٰ ایوب کا تعلق ایک ایسے ہی خاندان سے ہے اور ان کے سسرالی رشتہ دار بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں ۔ مسز ایوب نے کہا ان کے خاندان کے آٹھ افراد -- ان کے شوہر، چار بچوں، نند اور انکے بیٹے -- نے پرمٹ کے لئے ایک ساتھ درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

’ہم سب کو بس کے ذریعے سرینگر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے سوائے میرے شوہر اور نند کے کیونکہ دونوں سرکاری ملازمت کرتے ہیں‘۔

News image
بشریٰ ایوب کے شوہر سردار ایوب کا کا تعلق سرینگر سے ہے اور ان کے خاندان نے بیشتر افراد سرینگر میں ہی ہیں۔ بشریٰ کا کہنا تھا وہ اپنے شوہر کے بغیر اکیلی سرینگر نہیں جا سکتیں۔

جب پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی سے اس بات کی وضاحت چاہی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ بٹے ہوئے کشمیری خاندانوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین پر بس کے ذریعے سرینگر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ترجیح ان کو دی جارہی ہے جو بوڑھے ہیں یا ان لوگوں کو جو برسوں سے اپنے عزیزوں سے جدا ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ وہ کشمیری سرکاری ملازمین جو پاکستان کے کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں ملازم ہیں ان کو اجازت دی جارہی ہے۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کسی بھی محکمے کے سرکاری ملازم جنکا تعلق منقسم کشمیری خاندانوں سے ہے کو اجازت نہیں دی گئی۔

جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سینئر وزیر ممتاز گیلانی سے دریافت کیا گیا کہ کیا کشمیر کے اس خطے کے سرکاری ملازمین پر مقامی سطح پر کوئی روک لگائی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین پر کوئی روک نہیں لگائی گئی ہے ۔

انھوں نے کہا ’فی الوقت محدود پیمانے پر لوگ بس کے ذریعے سفر کررہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ وہی لوگ جائیں جو زیادہ مستحق ہیں اور وہ ملازم یا سیاست دان نہ ہوں‘۔

انھوں نے کہا’اگر ہم ملازمین کو بھیجنا شروع کریں گے تو لوگ حکومت پر تنقید کرنا شروع کریں گے کہ حکومت اپنے لوگوں کو بھیج رہی ہے اور اس تنقید سے بچنے کے لئے ابھی ہم نے یہ پالیسی رکھی ہے کہ ملازم نہ جائیں لیکن یہ کوئی حتمی پالیسی نہیں ہے کہ ملازم نہیں جائیں گے‘۔

ممتاز گیلانی نے کہا کہ ملازمین کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے لوگوں کا اور وہ (ملازمین) بھی مستقبل قریب میں بس کے ذریعے سرینگر جاسکیں گے۔

کشمیر کے اس خطے کے سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملازمین کو بس پر جانے کے لئے پرمٹ جاری کئے جائیں تاکہ وہ برسوں سے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے مل سکیں ۔

اگر سرکاری ملازمین کے بس کے ذریعے سرینگر جانے پر کوئی پابندی نہیں بھی ہے تب بھی اس پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں ابہام موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس ابہام کو کون دور کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد