کشمیر:دوسری بس میں گیارہ مسافر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان دوسری بس جمعرات کو چلنے والی ہے۔ لیکن اس میں تیس کی بجائے صرف 11 مسافر سرینگر جا رہے ہیں۔ پہلی بار کے مقابلے میں اس بار بس کے اڈے پر زیادہ گہما گہمی نہیں تھی اور صرف مسافروں کے عزیز و اقارب انہیں رخصت کرنے آئے۔ اڈے کے گرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ گیارہ کے علاوہ دیگر مسافروں نے اس بس کے ذریعے جانے سے معذروی ظاہر کی ہے ۔ حکام نے کہا ہے کہ یہ لوگ اپنی ذاتی وجوہات کی بناء پر اس بس پر سفر نہیں کر رہے۔ ہندوستان کے دارالحکومت سرینگر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان بس سروس کا آغاز 7 اپریل کو ہوا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاہدے کے تحت پندرہ دنوں میں ایک بار دونوں طرف سے دو بسیں چل سکتی ہیں اور ایک طرف سے زیادہ سے زیادہ 30 نئے مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت ہے ۔واپس جانے والے مسافر اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ بھارتی حکام نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ساٹھ ممکنہ مسافروں کو اجازت دے رکھی ہے لیکن صرف دس لوگ ہی سرینگر جانے کے لیے رضامند ہوئے ہیں۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریڑی کاشف مرتضیٰ نے کہا کہ جن لوگوں نے معذوری ظاہر کی ان کی اپنی گھریلوں مجبوریاں ہیں۔ چیف سیکریڑی کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسکول کھل گئے ہیں اور وہ بچوں کی پڑھائی کے خاطر نہیں جاسکتے، بعض کا کہنا ہے کہ وہ مئی جون میں جائیں گے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں موسم مزید بہتر ہوگا اور کئی یہ کہتے ہیں کہ وہ بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان دیگر راستوں کے کھلنے کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ انکے لیے سفر زیادہ آسان رہےگا۔ چیف سیکریٹری کا اشارہ ہندوستان اور پاکستان کے اس مشترکہ اعلان کی طرف تھا جس میں دونوں ملکوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ علاقے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ ضلع سے ملانے والی سڑک کو آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کی بات کی ہے۔ جن لوگوں کے عزیز واقارب جموں اور پونچھ کے علاقے میں ہیں ان کے لیے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان سڑک کے ذریعے سفر کرنا بہت آسان ہوگا۔ چیف سیکریڑی نے یہ واضع کیا کہ کسی بھی شخص نے سیکیورٹی کے باعث جانے سے انکار نہیں کیا۔ تاہم کشمیر کے اس علاقے میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ مسافروں کا انتخاب برادری، اقرباپروری، علاقائیت اور سفارش کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ حکام ایسے لوگوں کو سفر کے لیے چنتے ہیں جو اس وجہ سے سرینگر جانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ یا تو ان کے بہت قریبی عزیز بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نہیں ر ہتے یا سرے سے وہاں ان کا کوئی رشتہ دار ہی نہیں ہیں۔ ان خاندانوں یا افراد کو نظر انداز کیا جارہا ہے جن کے قریبی عزیز یا والدین اور بہن بھائی لائن آف کنڑول کے دوسری جانب رہتے ہیں اور وہ ان سے ملنے کے لیے بیتاب ہیں ۔ چیف سکریڑی کا کہنا ہے اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ چیف سکریڑی نے کہا کہ دوسری بس کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جس میں نہ صرف دس نئے مسافر مظفرآباد سے سرینگر جائیں گے بلکہ اس کے علاہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پہلی بس کے ذریعے آنے والے انیس میں سے 14 افراد بھی واپس جارہے ہیں۔ پانچ مسافروں اپنے مدت قیام میں توسیع کروائی ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||