BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہلی میں پاکستان کی کامیابی؟

مشرف اور منموہن
یہ خیال عام ہے کہ دنیا اور خاص طور پر امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے میں سرگرم ہے
پاکستانیوں نےمشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان مذاکرات پر جو ردِ عمل ظاہر کیا ہے وہ بظاہر سکون سے زیادہ لاتعلقی کا اظہار لگتا ہے۔

ایسا اس لئے نہیں ہے کہ پاکستانیوں میں بھارتیوں کے مقابلے امن کی خواہش کم ہے
لیکن انہیں 2001 کی آگرہ سربراہ کانفرنس کی ناکامی یاد ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کے خیال میں یہاں ایک بات قبلِ ذکر ہے کہ امریکہ اور چین جیسی بین الا قوامی طاقتیں جو آگرہ میں خاموش تماشائی بن کر رہ گئی تھیں کہا جاتا ہے کہ اس مرتبہ دہلی میں سرگرم رہیں۔

ڈاکٹررضوی کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر جب چینی وزیر اعظم نے پاکستان کے اپنے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون کے پیشِ نظر سیاسی تنازعات کو ختم کر دینا چاہئے تو ان کا مطلب پاکستان سے تھا۔

پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ دنیا اور خاص طور پر امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے میں سرگرم ہے۔

ان مذاکرات کے موقع پر لاہور میں ایک کلرک جمیل اشرف کا کہنا تھا کہ’ کرکٹ سے ڈپلومیسی تک سب کچھ پہلے سے طے تھا۔امریکہ نے پہلے ہی تمام باتوں کا خیال رکھا تھا‘۔

’ہو سکتا ہے کہ کرکٹ سیریز کی کامیابی مشرف کو تحفے میں دی گئی ہو‘۔

کئی دہائیوں سے پاکستان کی خارجہ پالیسی جمہوری حکومتوں کے بجائے فوجی حکومتوں کے ہاتھوں میں رہی ہے اور جب بھی کبھی کسی جمہوری حکومت نے بھارت کے ساتھ امن کے کسی متبادل منصوبے کی پیشکش کی فوج اس پر حاوی ہوگئی ۔

1989 میں جب اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے امن مذاکرات میں شرکت کے لئے بھارت کے اپنے ہم منصب راجیو گاندھی کو مدعو کیا تو اس کے فوراً بعد ہی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندی میں زبردست اضافہ ہو گیا تھا۔

1999 میں میاں نواز شریف اور اٹل بہاری واجپئی کے درمیان لاہور کانفرنس کے نتیجے میں کارگل سامنے آیا۔ جس کے دوران پاکستانی فوجی دستوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ایک علاقے پر قبضٰہ کر لیا۔اس وقت پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل مشرف تھے۔

مشرف اور واجپئی
لاہور کانفرنس کا نتیجہ کارگل تھا

گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد کے اس دور میں اس مرتبہ پاکستانی فوجی حکومت ہی امن کی خواہاں ہے ۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کا خیال ہے کہ اس کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے سے یہ نتیجے اخذ ہوتا ہے کہ پاکستانی قیادت نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے دباؤ میں آکر کشمیر جیسے متنازعہ موضوع کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ جنرل مشرف کی جانب سے اپنے عوام کو بار بار یہ یاد دلانے کہ باوجود کہ گیارہ ستمبر کے بعد دنیا بدل چکی ہے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فوجی قیادت کو پاکستانیوں کو یہ بتانے میں ابھی وقت لگے گا کہ وہ دہلی میں کیا ’کامیابی‘ حاصل ہوئی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد