BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 April, 2005, 23:10 GMT 04:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفر آباد میں کشمیریوں کا مظاہرہ

مظفرآباد سے جانے والی بس
کشمیری تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ بس مسافروں کو خوش آمدید کہنا چاہتے تھے
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں پیر کے روز سابق کشمیری عسکریت پسندوں کی تنظیم نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لئے مظاہرہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے اس تنظیم کے دو درجن سے زائد افراد کو مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کے آغاز کے موقع پر حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امن امان قائم رکھنے کے لئے کی گئی ہے۔

پولیس نے ان افراد کو گزشتہ بدھ اور جمعرات کو مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کے آغاز کے موقع پر اپنی تحویل میں لے لیا اور بعد میں انہیں جیل منتقل کر دیا گیا۔

سابق کشمیری عسکریت پسندوں کی تنظیم حقیقی فورس نے یہ مظاہرہ مظفرآباد میں منعقد کیا۔ مظاہرے میں چند درجن افراد نے شرکت کی۔ اس تنظیم کا موقف یہ ہے کہ وہ 7 اپریل کو سرینگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کے آغاز کے موقع پر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے مہمانوں کے استقبال کے لئے ایک تقریب منعقد کرنا چاہتے تھےکہ اس سے پہلے ہی پولیس نے ان کے ساتھیوں کو بغیر کسی وجہ کے حراست میں لے لیا۔

مظفرآباد کے اسٹنٹ کمشنر محمد طیب کا کہنا ہے اس روز پوری قوم اور حکومت ایک ہو کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے مہمانوں کا استقبال کررہے تھے لیکن اس تنظیم کی طرف سے الگ سے تقریب منعقد کرنے کے منصوبے نے شکوک وشبہات پیدا کئے جس کی وجہ سے ان کو امن امان قائم رکھنے کے لئے حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

مسڑ طیب کا کہنا ہے کہ ’ہماری اطلاعات کے مطابق وہ کوئی احتجاجی مظاہرہ کرنا چاہتے تھے جسکا مقصد انکے اپنے بعض مسائل کی طرف توجہ حاصل کرنا تھا‘۔

مسڑ طیب کا کہنا ہے کہ حراست میں لئے گئے افراد کے خلاف کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ان کو اس وقت رہا کیا جائے گا جب یہ یقین ہوجائے کہ ان کی رہائی سے امن امان میں کوئی خلل نہیں پڑے گا۔

حقیقی فورس کا الزام ہے کہ ان کے لگ بھگ ایک سو ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن انتظامیہ یہ تعداد کوئی ڈھائی درجن بتاتی ہے۔

سابق عسکری تنظیم نے کہا کہ اگر ان کے ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

حقیقی فورس میں شامل لوگ وہ ہیں جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری کارروائیوں کے دوران مختلف اوقات میں لائن آف کنڑول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئے اور اور پھر اپنے گھروں کو واپس نہ جا سکے۔

اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس میں شامل افراد کی تعداد لگ بھگ چار سو ہے اور ان میں بہت سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ حقیقی فورس میں شامل ان افراد کا ماضی میں مختلف کشمیری عسکری تنظیموں سے تعلق رہ چکا ہے لیکن بعد میں انھوں نے مختلف وجوہات کی بنیاد پر ان تنظیموں سے علحٰیدگی اختیار کر لی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حقیقی فورس مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس سروس کی زبردست حمایت کرتی ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے ان کو بھی بس کے ذریعے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اپنے گھروں کو واپس بھیجا جائے۔ اس سال جنوری میں اس تنظیم نے ایک مظاہرہ بھی کیا تھا جس میں انھوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ان کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے گھروں کو جانے کی سہولت فراہم کی جائے۔

66پناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
66’کامسر‘ مہاجر کیمپ
کمشیر کاحل، مہاجر بھی متفق نہیں
66’بس‘ ایک سہولت
ماضی اور حال کے جہادی کیا کہتے ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد