دوسرا راؤنڈ اختتام کے قریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے سرینگر جانے والی بس کے پچیس مسافر مقامی وقت کے مطابق گیارہ بج کر پینتیس منٹ پر امن پل عبور کر کے بھارتی زیرِانتظام کشمیر میں داخل ہوئے جبکہ سرینگر سے آنے والے مسافروں کی آمد دوپہر دو بجے تک متوقع ہے۔ لائن آف کنٹرول عبور کرنے والے پچیس مسافوں میں گیارہ نئے مسافر ہیں جو مظفرآباد سے سرینگر جا رہے ہیں جبکہ اس کے علاہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پہلی بس کے ذریعے آنے والے انیس میں سے چودہ افراد بھی واپس جانے والوں میں شامل ہیں جبکہ پانچ مسافروں نے اپنے مدت قیام میں توسیع کروائی ہے۔ لائن آف کنٹرول عبور کرنے والے ایک مسافر مرزا زاہد بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی دادی اور چچا سے ملنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کےوالدین 1965 میں مظفر آباد آ گئے تھے اور وہ پہلی مرتبہ اپنے رشتہ داروں سے ملیں گے۔ سیکیورٹی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے اور وہ صدر مشرف اور منموہن سنگھ کے شکرگزار ہیں جنہوں نے انہیں اپنوں سے ملنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ سرینگر کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سری نگر سے روانہ ہونے والی دو بسوں میں انیس مسافر سوار ہیں۔ دوسری بس کی روانگی کے موقع پر کسی قسم کی خاص گہماگہمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مظفر آباد میں بھی پہلی بار کے مقابلے میں اس بار بس کے اڈے پر زیادہ چہل پہل نہیں تھی اور صرف مسافروں کے عزیز و اقارب انہیں رخصت کرنے آئے۔ اڈے کے گرد سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ گیارہ کے علاوہ دیگر مسافروں نے اس بس کے ذریعے جانے سے معذروی ظاہر کی ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ یہ لوگ اپنی ذاتی وجوہات کی بناء پر اس بس پر سفر نہیں کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے دارالحکومت سرینگر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے درمیان بس سروس کا آغاز 7 اپریل کو ہوا تھا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاہدے کے تحت پندرہ دنوں میں ایک بار دونوں طرف سے دو بسیں چل سکتی ہیں اور ایک طرف سے زیادہ سے زیادہ 30 نئے مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت ہے ۔واپس جانے والے مسافر اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ بھارتی حکام نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں آنے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ساٹھ ممکنہ مسافروں کو اجازت دے رکھی ہے لیکن صرف گیارہ لوگ ہی سرینگر جانے کے لیے رضامند ہوئے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریڑی کاشف مرتضیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ جن لوگوں نے سفر کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے ان کی اپنی گھریلوں مجبوریاں ہیں۔ چیف سیکریڑی نے یہ واضح کیا کہ کسی بھی شخص نے سیکیورٹی کے باعث جانے سے انکار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ مئی یا جون میں جائیں گے جب بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں موسم مزید بہتر ہوگا اور کئی کا کہنا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے درمیان دیگر راستوں کے کھلنے کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ ان کے لیے سفر زیادہ آسان رہےگا۔ چیف سیکریٹری کا اشارہ ہندوستان اور پاکستان کے اس مشترکہ اعلان کی طرف تھا جس میں دونوں ملکوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ علاقے کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ ضلع سے ملانے والی سڑک کو آمد و رفت کے لیے بحال کرنے کی بات کی ہے۔ جن لوگوں کے عزیز واقارب جموں اور پونچھ کے علاقے میں ہیں ان کے لیے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان سڑک کے ذریعے سفر کرنا بہت آسان ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||