BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 April, 2005, 03:31 GMT 08:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
59 سال بعد پہلی بار والد کی قبر پر

راجہ نصیرالدین
راجہ نصیرالدین اپنی چچازاد بہن کے ساتھ جنہیں وہ نصف صدی بعد ملے
’میں اپنے جذبات کیسے بیان کروں۔‘ راجہ نصیرالدین نے یہ بات مظفرآباد سے کوئی سولہ کلومیڑ کے فاصلے پر واقع لواسی گاؤں میں اپنے والد اور دیگر عزیزوں کی قبروں پر حاضری دینے اور فاتحہ پڑھنے کے بعد کی۔

راجہ نصیرالدین صرف تین سال کے تھے جب ان کے والد ایک حادثہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ لگ بھگ 59 سال بعد پہلی مرتبہ اپنے جائے پیدائش پر واپس آئے اور اپنے والد کی قبر دیکھی اور وہاں فاتحہ پڑھی۔

نصیرالدین ان انیس مسافروں میں سے ایک تھے جو سات اپریل کو سرینگر سے مظفرآباد کے درمیان پہلی بس کے ذریعے آئے۔ وہ جمعرات کی بس میں واپس نہیں جارہے ہیں بلکہ انھوں نے چار اور مسافروں کی طرح اپنے قیام کی مدت میں پندراں دن کی توسیع کروائی ۔

راجہ نصیرالدین بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہوئے
راجہ نصیرالدین بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہوئے
قبرستان میں کوشش کے باوجود نصیرالدین اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انکی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سن انیس سو سنتالیس اور اڑتالیس میں کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ ہوئی اور ایل او سی کے پار کشمیر کے درمیان رابطہ منقطع ہوگیا۔

نصیرالدین کہتے ہیں کہ ’مجھے اپنے والد یاد نہیں کیونکہ میں بہت چھوٹا تھا جب انکی وفات ہوئی تھی ۔لیکن اب مجھے سکون ملا ہے کہ کم از کم میں نے اپنے والد کی قبر پر فاتحے پڑھی‘۔

جس قبرستان میں نصیرالدین کے والد دفن ہیں وہیں انکے تین چچا اور دادا دادی اور خاندان کے کچھ اور لوگ بھی دفن ہیں ۔ انھوں نے ہر ایک کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھی ۔ نصیر الدین کہتے ہیں کہ ’میں چاہتا ہوں کہ ہر سال یہ موقع آئے اور میں آؤں اور فاتحہ پڑھوں‘۔

نصیر کے والد نومبر 1946 میں مظفرآباد کے قریب ایک ٹریفک خادثے میں جاں بحق ہوئے تھے ۔انکے پیچھے دو بچے جن میں نصیر، انکی چھوٹی بہن پروین اور ان کی ماں رہ گئیں تھیں۔

نصیر اس وقت تین سال کے تھے جبکہ انکی بہن صرف دو ماہ کی تھی ۔1947 میں یہ دونوں بہن بھائی اپنی والدہ کے ہمراہ نانی کے گھر پر اوڑی کے قریب ایک گاؤں بجہامہ میں تھے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی اور کشمیر تقسیم ہوا اور یہ تینوں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رہ گئے اور یوں یہ خاندان بٹ گیا۔

News image

راجہ نصیرالدین نے لواسی میں جب اس گھر میں قدم رکھا جہاں وہ پیدا ہوئے تھے تو انکے ارد گرد خاندان کے چھوٹے بڑے سب لوگ جمع ہوگئے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور گھنٹوں باتیں کیں ۔

اس موقع پر سب کے چہروں پر خوشی اور دکھ کے تاثرات عیاں تھے۔ ظاہر ہے کچھ لوگ ان کے درمیان نہیں تھے وہ وفات پاچکے تھے اور ایسے موقعوں پر تو سبھی کو یاد کیا جاتا ہے۔

راجہ نصیرالدین نے کہا ’انقلاب نے مجھے کہاں جا دھکیلا اور میری زندگی کہاں گذری۔ ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ مرنے اور جینے میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دے سکتے، میری دعا ہے کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو‘۔

لیکن انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ اپنے خاندان والوں سے دوبارہ مل سکے۔

اس دوران دلچسپ بات یہ ہوئی کہ نصیرالدین اور ان کی ایک چچا زاد بہن 65 سالہ نئیر جاوید کی ملاقات اتفاقیہ ہوئی کیونکہ وہ پنتالیس سال سے کینڈا میں رہتی ہیں اور اتفاقاً مارچ کے آخری ہفتے میں مظفرآباد آئی۔ ان کا پروگرام پہلے گزشہ سال کے آخر میں مظفر آباد آنے کا تھا۔

نئیر کنیڈا میں ماہر نفسیات ہیں اور وہ سن 1969 میں مظفرآباد سے کینیڈا گئی تھیں ۔

نئیر اور راجہ نصیر کی ملاقات اس لیے بھی اہم تھی کہ وہ اس گاڑی میں سوار تھیں جو 1946 میں حادثے کا شکار ہوئی اور جس میں نصیر کے والد اپنے دو اور کزنز سمیت جان بحق ہوئے تھے۔ اس وقت نئیر جاوید کی عمر آٹھ سال تھی۔

نئیر جاوید نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ ’میں خوش ہوں کہ میرا زندگی کا خواب پورا ہوا اور میری اپنے بھائی سے ملاقات ہوئی۔ یہ وہ خواب ہے جسکے پورا ہونے کی مجھے امید نہیں تھی‘۔

نصیرالدین اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ان کے عزیزوں کے درمیان ایک عرصے تک کوئی رابطہ نہ تھا۔ یہ رابطہ سن دو ہزار میں اس وقت بحال ہوا جب نصیرالدین کے بیٹے ساجد نصیر اپنے عزیزوں سے ملنے مظفرآباد آئے۔

نصیرالدین کی یہ خواہش ہے کہ ہر دوسرے دن مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان بس چلے تاکہ آنا جانا لگا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں وہ تو بس ایک دوسرے کو ملنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد