’سرحدوں کے بنا کشمیر ممکن ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’سرحدوں کے بغیر کشمیر‘ کے تصور کی طرف بڑھنا ممکن ہے۔ دلی میں اپنی رہائش گار پر کچھ غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پہلے ان معاملات کو دہرایا جو انڈیا کو منظور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم منظور نہیں ہے اور نہ ہی ان کہ پاس ایسا مینڈیٹ ہے جس کے تحت اب سرحدیں دوبارہ سے بدلی جاسکیں۔ لیکن جب مسٹر سنگھ انُ معاملات کی طرف آئے جو ان کے خیال میں ممکن ہیں تو انہوں نے کئی نئی باتوں کی طرف اشارہ دیا جو انڈیا کے روایتی موقف سے ہٹ کر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ان باتوں کو سمجھ جائے جو انڈیا کو قبول نہیں تو پھر ’امکانات لا محدود ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے (پاکستان اور انڈیا) درمیان بہت سی قدریں مشترک ہیں اور ہمیں مل کر ایسے حل کے لئے کوششیں کرنا چاہئیں جس کے تحت ایک ایسے کشمیر کے تصور کی طرف بڑھنا ممکن ہے جس میں ایک طرح سے سرحدیں بے معنی ہوجائے یعنی اس سے کوئی فرق نہ پڑے کہ کوئی سری نگر میں رہ رہا ہے یا مظفر آباد میں۔‘ منموہن سنگھ نے کہا کہ انڈیا کے آئین اور تاریخ میں جموں و کشمیر کی ایک خاص جگہ ہے اور کشمیر کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دینے کے بارے میں بھی سوچا جاسکتا ہے۔’ہمیں وادی میں جمہوری روایات اور خود مختاری کو فروغ دینے کے لئے کوشیں کرنا چاہئیں‘ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کسی بھی ممکنہ حل کے بارے کوئی ٹھوس بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیچیدہ اور تاریخی معاملہ ہے۔ ’امن کا عمل صحیح سمت میں چل رہا ہے اور وہ جنرل مشرف سے مزیر ملاقاتیں کرنے کے خواہاں ہیں۔‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کا کوئی بھی بڑا حملہ امن کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پاکستان سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے ان کیمپس کو ختم کرنےکی کوشش کرے جو ابھی تک کام کررہے ہیں۔ غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ اپنی پہلی تفصیلی ملاقات میں مسٹر سنگھ نے بہت پرسکون موڈ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کے پیچھے ایک ہی بڑا محرک ہے۔ ’ہم ایک ایسا بین الاقوامی ماحول بنانا چاہتے ہیں جس میں انڈیا میں معاشی اور سماجی ترقی ممکن ہو اور ایسا کرنے کے لئے سب سے پہلے ایک پر امن علاقائی ماحول کی ضرورت ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||