BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد دورہ کی دعوت پر اختلاف

کشمیر
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں کو دو مئی کو مظفرآباد آنے کی دعوت دی گئی ہے
پاکستان کی حکومت کی طرف سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی علحٰیدگی پسند رہنماؤں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کی دعوت نئے تنازعے کا باعث بن گئی ہے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے اس کی کھل کر مخالفت کی اور بعض نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ کچھ نے اس کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر کے روز کشیری علحٰیدگی پسند رہنماؤں کو دو جون کو بس کے ذریعے پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر آنے کی دعوت دی ہے ۔ کشمیری قیادت کا کہنا کہ وہ اس دعوت پر غور کریں گے۔

اگر چہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی طرف سے کشمیری علحٰیدگی پسند رہنماؤں کو پاکستان اور اسکے زیر انتظام کشمیر آنے کی دعوت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس دورے کو کامیاب بنانے کے لئے علحٰیدگی پسند کشمیری رہنماؤں کو ممکنہ دورے سے قبل آپس میں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے ورنہ یہ مجوزہ دورہ سردار عتیق کے کہنے کے مطابق نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ’ مجوزہ دورے سے پہلے بھی آزادی پسند رہنماؤں کے درمیان اتحاد کی فضا بہتر طور پر سامنے آنی چاہیے اور دورے کے بعد اس فضا میں بہتری آنی چاہئے ۔‘ عتیق احمد خان نے کہا کہ ’ اگر حکومت پاکستان کی آزادی پسند رہنماؤں کے درمیان اتحاد کے لئے کاوشیں رنگ نہ لاسکیں اور دورے سے پہلے بھی اتحاد کی فضا پیدا نہیں ہوسکی اور بعد میں بھی اس میں پیشرفت نہ ہو اور دورے کے بعد ایسا نہ ہو کہ انکے درمیان پہلے سے موجود خلیج وسیع تر ہوجائے تو یہ کشمیریوں کی آزمائش میں اضافہ کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔

’ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ یہ مجوزہ دورہ سود مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی الزام لگ سکتا ہے کہ پاکستان کے دورے کے بعد بھی ان میں اتحاد اور اتفاق پیدا نہیں ہوسکا ۔

سردار عتیق نے جہاں علحٰیدگی پسند رہنماؤں کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کشمیر علحٰیدگی پسند رہنما اپنے دورے سے قبل بھارت نواز مسلم اور غیر مسلم ساری معروف کشمیری قیادت سے بات چیت میں پہل کریں اور یکجہتی کی فضا کی بنیاد رکھیں ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حزب مخالف کی جماعت بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سربراہ اسحاق ظفر نے علحٰیدگی پسند رہنماوں کو دورے کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسکو مثبت پیش رفت قرار دیا ۔

انہوں نے کہا کہ اس دورے کے باعث دونوں طرف کی کشمیری قیادت کو ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے خیالات جاننے کے ساتھ ساتھ کشمیر کے حل کے بارے میں مختلف تجاویز پر گفت و شنید کرنے کا بھی موقع ملے گا۔

لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جماعت اسلامی کے سربراہ سردار اعجاز افضل نے اس کی کھل کر مخالفت کی اور کہا کہ ایسی صورت میں جب پاکستان کشمیر کے معاملے پر اپنے قومی موقف سے انحراف کررہا ہے اور کشمیر کے حل کے بارے میں مختلف تجاویز پیش کررہا کشمیری علحٰیدگی پسند قیادت کو ربڑ سٹمپ کا کردار ادا کرنے کے لئے کشمیر کے اس علاقے کا دورہ نہیں کرنا چاہیے ۔

اعجاز افضل نے کہا کہ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ ان کو ربڑ سٹمپ کا کردار ادا کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے دورے کی دعوت دی ہے ۔ خودمختار کشمیر کے حامی ایک اہم تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اپنے دھڑے کے سربراہ سربراہ امان اللہ خان نے کشمیری رہنماؤں کو دورے کی دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مجوزہ دورہ دونوں جانب کی قیادت کو ایک دوسرے کے بارے میں خوش فہمیاں اور غلظ فہمیاں دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ہوسکتا ہے کہ کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کے لئے مشرکہ لائحہ عمل پر اتفاق ہوسکے۔

ادھر خودمختار کشمیر کے حامی کئی تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی قومی اتحاد کے سربراہ عارف شاہد نے بھی اس مجوزہ دورے کی حمایت کی ہے ۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علحیدگی پسند رہنما پاکستان کی طرف سے دی جانے والی دعوت پر غور کررہے ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ آیا کشمیری رہمنا دو جون کو بس کے ذریعے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا سفر کرسکیں گے یا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد