بھارتی سفارت کار کا قاتل رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سفارت کا کو قتل کرنے والا کشمیری شخص برطانیہ میں 21 سال قید گذارنے کے بعد پاکستان پہنچا گیا۔ ایک بھارتی سفارت کار کے قتل کے الزام میں برطانوی جیل میں اکیس سال سے زائد عرصے کی قید کاٹنے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے راجہ عبدالقیوم بدھ کے روز خاموشی سے اپنے گھر پہنچ گئے ۔ منگل کوبرطانیہ کی ایک جیل سے رہائی کے بعد انھیں ملک بدر کرکے پاکستان بھیج دیا گیا ۔ راجہ عبدالقیوم بدھ کے روز یہاں کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے برٹش ایئر ویز کے ذریعے لندن سے اسلام آباد پہنچے ۔ انکے ہمراہ تین برطانوی اسکیورٹی اہلکار تھے جنھوں نے مسٹر قیوم کو اسلام آباد ائرپورٹ پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا۔ راجہ عبدالقیوم خان کی سزا دو مارچ کو پوری ہوئی تھی اور برطانوی پے رول بورڈ نےپندرہ مارچ کو انکی رہائی کا حکم سنایا تھا لیکن سفری دستاویزات تیار نہ ہونے کے باعث انھیں مزید دو ماہ جیل میں رہنا پڑا۔ پاکستان کی حکومت کی جانب سے سفری دستاویزات فراہم کئے جانے کے بعد انھیں منگل کی صبح برطانیہ کی سفک کونٹی میں قائم ہائی پوائنٹ جیل سے رہا کرکے لندن لایا گیا تھاجہاں سے انھیں پاکستان بھیج دیا گیا ۔ راجہ قیوم سمیت چھ افراد پر الزام تھاکہ انھوں نے خودمختار کشمیر کے حامی ایک کشمیر ی رہنما مقبول بٹ کو بھارتی جیل سے رہائی کے لئے فروری 1984 میں برطانیہ میں تعنات بھارتی اسسٹنٹ ہائی کمشنر رویندارا مہاترے کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا تھا۔ مہاترے کو چار فروری کو برمنگھم سے اغوا کیا گیا تھا اور تیسرے دو انکی لاش برآمد ہوئی تھی اور گیارہ فروری 1984 کو مقبول بٹ کو دہلی کے تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی ۔ 22 فروری 1984 کو راجہ قیوم کو سکاٹ لینڈ سے آئرلیڈ جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا برطانوی جیل میں اکیس سال سے زائد عرصہ گذارنے کے بعد انھوں نے منگل کے روز رہائی پائی جبکہ ان کے دیگر ساتھی پہلے ہی برطانیہ میں اپنی سزا پوری کر کے رہا ہوچکے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||