زاہد قتل: غیر نسلی پرست دیوانگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی جیل میں زاہد مبارک نامی ایک نوجوان کی موت ایک عرصے تک موضوع بحث بنی رہی ہے اور اب اگرچہ نفسیاتی ماہرین کی تحقیقات کے نتیجے میں قاتلانہ حملے کے مرتکب کا نفسیاتی مریض ہونا ثابت ہو گیا ہے لیکن اب بھی ایک اہم سوال تسلی بخش جواب کا منتظر ہے۔ اس قتل کو مسلمان قیدیوں کے ساتھ نسل پرستانہ برتاؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا تھا اور زاہد مبارک کو اس روز قتل کیا گیا تھا جس روز اس کی رہائی کچھ ہی گھنٹے باقی تھے۔ تحقیقات کے نتیجے بتایا گیا ہے کہ قاتلانہ حملے کا مرتکب ایک نفسیاتی مریض ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ نسل پرستانہ تصورات کا حامی بھی ہے اور تحقیقات سے یہ گتھی نہیں سلجھی کہ ایسی قیدی کے ساتھ زاہد مبارک کو کیوں رکھا گیا؟ جیل میں مسلمان قیدیوں کے مشیر مقصود احمد نے مسلمان قیدیوں کے ساتھ اس طرح کے رویے پرانتہائی تعجب کا اظہار کیا ہے۔ 2001 میں رابرٹ سٹورٹ نے زاہد مبارک پر حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کر دیا تھا جس کی وجہ سے سات دن بعد ان کی موت ہوگئی۔ فیلتھم جیل میں اس وقت موجود افسر جیمز ارنلڈ پر نسل پرستی کے حوالے سے الزام لگایا گیا تھا۔ حالانکہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زاہد مبارک پر حملے کا نسل پرستی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تحقیقات کے مطابق زاہد مبارک کی موت نسل پرستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایسی واقعاتی موت تھی جو رابرٹ سٹورٹ کی ذہنی بیماری کے باعث ہوئی۔ زاہد مبارک جن کا تعلق مانچسڑ سے تھا اور لڑائی جھگڑے کے ایک مقدمے میں سزا کاٹ رہے تھے۔ رابرٹ سٹورٹ نے یہ حملہ ان پرمیز کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ سے اس وقت کیا جب مبارک کچھ ہی گھنٹے بعد رہا ئی پانے والے تھے۔کہا جاتا ہے کہ بروقت طبی امداد نہ ملنا بھی مبارک کی موت کا ایک سبب تھا۔ مشرقی لندن کے رابٹرٹ سٹورٹ جن کی عمر اس وقت چوبیس سال ہے اب زاہد مبارک کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
اس واقعہ کے ردِ عمل کے دوران پولیس ڈائریکڑ جنرل مارٹن نارے نے شدید رنج و غم کے اظہار کے بعد اپنا استعفٰی دینا چاہا لیکن سابق وزیرِ داخلہ جیک سٹرا کے بے حد اصرار پر اپنے عہدے سے علیحدہ نہیں ہوئے۔انہوں نے اس کیس کے حوالے سے یہ بتایا کہ قیدیوں کو حاصل سہولتوں کے اعتبار سے فیلتھم جیل کے حالات انتہائی غیر تسلی بخش تھے۔سٹاف کی کمی اور قیدیوں میں مستقل اضافہ، انتظام میں رکاوٹیں قیدیوں کے لیے تکلیف دہ ہو چکی تھیں۔ مسٹر نارے کا مزید یہ کہنا تھا کہ جس وقت مبارک کی موت ہوئی اس وقت جیل میں سٹورٹ سے بھی زیادہ خطرناک قیدی موجود تھے۔ فیلتھم جیل کے اس واقعہ کے بعد حکومت نے امپیرل کالج لندن برائے نفسیات کے پروفیسر انتھونی میڈن اور انسٹیٹوٹ برائے نفسیات کے ماہر جون گن کو اس کیس میں اپنی ماہرانہ رائے دینے کے لیے منتخب کیا تھا۔ دونوں ماہروں نے اپنے بیانات میں رابرٹ سٹوٹ کو ایک ذہنی مریض قرار دیا ہےاور ان کی اس حالت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ حملہ کمرے میں موجود کسی بھی قیدی پر ہوسکتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||