BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 October, 2003, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی پولیس میں نسل پرستی
پروگرام نشر ہونے کے بعد تین پولیس افسروں کو معطل کیا گیا

ٹیلی وژن کے ایک پروڈیوسر نے برطانیہ میں خفیہ طور پر بنائی جانے والی اس فلم کا دفاع کیا ہے جس میں پولیس کے محکمے میں نسل پرستی کے الزامات کو ’بے نقاب‘ کیا گیا ہے۔

پروڈیوسر سائمن فرائڈ نےاس متازع فلم کا دفاع وزیرِ داخلہ ڈیوڈ بلنکٹ کی تنقید کے بعد کیا ہے جنہوں نے ایک رپورٹر کے تربیتی افسر کے طور پر گریٹر مانچیسٹر پولیس میں بھرتی ہونے پر نکتہ چینی کی تھی۔ رپورٹر نے یہ کام پولیس میں نسل پرستی پائے جانے کے ثبوت جمع کرنے کے لئے کیا تھا۔

منگل کو نشر کیے جانے والے ان الزامات کے باعث چار افسران کو معطل کیا گیا ہے جن میں سے تین کا تعلق گریٹر مانچیسٹر پولیس سے جبکہ چوتھے کا تعلق نارتھ ویلز پولیس کے ساتھ ہے۔

اس فلم کو بنانے والے رپورٹر مارک ڈیلی کو بھی پولیس کے محکمے میں دراندازی کے الزامات کا سامنا ہے جو ان کے بقول انہوں نے اس لئے کی تھی کہ وہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ کیا پولیس میں محکمے کی سطح پر اب تک نسل پرستی کا وجود ہے یا نہیں۔

گریٹر مانچیسٹر پولیس نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ اس نے فلم ’دی سیکریٹ پولیس مین‘ دیکھنے کے بعد اپنے تین افسران کو معطل کر دیا ہے۔

منگل کو پروگرام کے ایگزیکٹو پروڈیوسر مسٹر فورڈ نے ان طریقوں کا دفاع کیا جن کے تحت پولیس میں نسل پرستی کے الزامات کے ثبوت اکٹھے کرنےکی کوشش کی گئی۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو کے ’ٹو ڈے‘ پروگرام میں کہا کہ یہ فلم پولیس میں نسل پرستی کی پہلی ٹھوس شہادت فراہم کرتی ہے۔ ’ہم نے تحقیقی صحافت کے ذریعے ثبوت پیش کر دیا ہے۔‘

رپورٹر ڈیلی کا دعوی ہے کہ انہوں نےاپنی فلم میں نسل پرستی پر مبنی جملے بھی ریکارڈ کیے ہیں۔ مثلاً فلم میں ایک افسر مبینہ طور پر یہ کہتا ہے: ’اگر ہوسکے تو میں ایشیائی افسر کو قتل کردوں۔‘ جبکہ ایک دوسرا افسر مبینہ طور پر کہتا ہے :’میں اسے (ایک دوسرے پولیس افسر کو) روک دوں گا کیونکہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔‘

رے پاول جو نیشنل بلیک پولیس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں کہتے ہیں کہ انہیں چند پولیس افسروں کے رویے پرمایوسی ہوئی ہے۔ ’میں چاہوں گا کہ پولیس سروس کے اعلیٰ افسر نسلی پرستی پر مبنی اس قسم کے رویے کی کھلے عام مذمت کریں اور اس کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات کریں۔‘

ادھر وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ’بی بی سی نے خبر سنانے کی بجائے خبر بنائی ہے‘۔

صحافی ڈیلی نے یہ فلم پانچ ماہ میں تیار کی ہے لیکن ان پر الزام عائد ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مالی فائدہ اٹھانے کےلئے دھوکہ دہی کی ہے۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ رپورٹر ڈیلی نے پولیس کے محکمے سے جو بھی تنخواہ لی ہے اسے ایک علیحدہ بینک اکاؤنٹ میں رکھا گیا ہے اور تحقیقات کے بعد یہ رقم لوٹا دی جائے گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد