BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری رہنماؤں کاوالہانہ استقبال

کشمیر سے روانگی پر حامیوں نے پر جوش طریقے سے الوداع کیا
کشمیر سے روانگی پر حامیوں نے پر جوش طریقے سے الوداع کیا
بھارت سے علیحدگی کے لیے جدوجہد کرنے والے نو رہنما جمعرات کو ستاون برس بعد پہلی مرتبہ کشمیر کو منقسم کرنے والی لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد پہنچے ہیں۔

پاکستان آنےوالے رہنماوں میں حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق، پرورفیسر عبدالغنی بھٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون اور فضل الحق قریشی شامل ہیں جبکہ جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک اور جموں اینڈ کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری بھی اس وفد کے ہمراہ آئے ہیں۔

جمعرات کو مظفرآباد پہنچنے والے رہنماؤں میں کشمیر فریڈم پارٹی کے رہنماشبیرشاہ کی شمولیت بھی متوقع تھی لیکن سفری پرمٹ کی درخواست میں اپنی شہریت’کشمیری‘ لکھنے کی وجہ سے انہیں پرمٹ جاری نہیں کیا گیا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پہنچنے پررہنماؤں کا والہانہ استقبال کیا گیا اور چکوٹھی سے مظفرآباد تک سڑک کے دونوں جانب ہزاروں لوگ ان رہنماوں کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔

علیحدگی پسند کشمیری رہنما ایک جلوس کی صورت میں مظفر آباد پہنچے جہاں ان کی آمد پر ٹریفک معطل ہو گیا اور سینکڑوں لوگ ان کے ہمراہ اس ہوٹل تک آئے جہاں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیاہے۔

صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے آل پارٹیزحریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کا یہ تاریخی دورہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلہ میں اہم قدم ہے۔

انہوں نے اس دورہ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کا ایک عظیم موقع قرار دیا۔

پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہری شجاعت حسین نے دورے کو مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پہلا قدم قراردیا جبکہ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری سید مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق چاہتا ہے۔

میر واعظ عمر فاروق اس موقع پر کہا کہ کشمیر میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا لائحہ عمل مرتب کریں جوتمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

مظفر آباد کے جس ہوٹل میں رہنماؤں کو ٹھہرایا گیا ہے اس کے باہر لوگوں کا ہجوم جمع رہا۔

News image
شبیرشاہ کوبھارتی حکومت نےاپنی شہریت’کشمیری‘ لکھنے کی وجہ سے سفرکاپرمٹ نہیں دیا۔

جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک جب تھوڑی دیر کے لیے ہوٹل سے باہر آئے تو مظفر آباد میں ان کی جماعت کےحامیوں نے زبردست نعرہ بازی کی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات کے علاوہ پاکستان حکومت کی طرف سے سابق وزیر اعظم اور حکمران مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور حکمراں جماعت کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین بھی استقبال کرنے والوں میں شامل تھے۔

اس موقع پر امن اور دوستی کی علامت کے طور پر فاختائیں آزادکی گئیں اور غبارے چھوڑ ے گئے اور ایک بینڈ نےاستقبالیہ دھینن بجائیں۔

66 کشمیر تقسیم ہو؟
مشرف فارمولا پر آپ کیا سوچتے ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد