’ کشمیریوں کی شمولیت ضروری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق، پرورفیسر عبدالغنی بھٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون اور فضل الحق قریشی، جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک اور جموں و کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ ماضی کی کوششیں اس لیے ناکام ہوئی ہیں کے ان میں کشمیریوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر تمام دو طرفہ معاہدے جن میں تاشقند، شملہ، لاہور اور آگرہ شامل ہیں، اسی لیے ناکام ہوئے ہیں کیونکہ ان میں کشمیری شامل نہیں تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بار جو امن کا سلسلہ شروع ہوا ہے ہم اسی کے لیے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر آئے ہیں تاکہ لائن آف کنٹرل کے دونوں اطراف کے کشمیر کی قیادت اور کشمیری عوام کو امن کے اس عمل میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیریوں کو کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کرتے وقت اعتماد میں نہ لیا گیا تو امن کی یہ کوشش بھی نا کام ہوجائی گی۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کے رہنماوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جس طرح کی پذیرائی ملی ہے اس سے ان کے دل بھر آئے ہیں۔ اس موقع پر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک نے کہا کہ کشمیری اب تک اپنی قسمت کا فیصلہ ریڈیو اور ٹی وی پر سنتے رہے ہیں تاہم اب وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کو امن کے اس سارے عمل میں شامل کیا جائے اور کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق نکالاجائے۔ حریت کے رہنما عبدالغنی بھٹ نے کہا کہ امن کا یہ عمل جتنا مستحکم ہے اتنا ہی نازک ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے رہنماوں کے اعزاز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار محمد انور خان نے عشائیہ دیا ہے۔ جمعہ کو یہ رہنما پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اتوار کو یہ رہنما اسلام آباد جائیں گے۔جہاں وہ صدر پرویز مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور دیگر سیاسی رہنماوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||