’کشمیر دوطرفہ تعلقات کی کنجی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی کنجی مسئلہ کشمیر کا حل ہے اور اس کے لیے اعتماد سازی اور مسئلے کے حل کے اقدامات ایک ساتھ ہونے چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سے شروع ہونے والی اٹھاون ویں پانچ روزہ ’فارمیشن کمانڈرز کانفرنس‘ سے اپنے افتتاحی خطاب میں کیا۔ صدر نے اعلیٰ فوجی قیادت کو اپنے حالیہ بھارت کے دورے کے بعد پہلی بار تفصیل سے بریف کیا اور کہا کہ تنازعات برقرار رکھنے کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب تنازعات کا حل مکمل سنجیدگی سے نکالنا ہوگا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’فارمیشن کمانڈرز کانفرنس‘ کے دوسرے روز یعنی منگل کو پیشہ ورانہ معاملات پر غور ہوگا اور باقی تین دنوں میں لیفٹیننٹ کرنل سے کرنل اور برگیڈیئر کے عہدوں پر ترقی کے لیے ’سلیکشن بورڈ‘ کے اجلاس ہوں گے۔ بیان کے مطابق صدر نے کانفرنس سے خطاب میں فوج کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تین سال کے بعد پہلی بار یوم پاکستان کی پریڈ کا اہتمام کیا گیا، ’آئیڈیاز2005 ‘ نمائش منعقد کی، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بارشوں اور برفباری سے متاثرے افراد کی مدد کی اور سکھر بیراج کی مرمت کا کام بھی کیا۔ صدر نے بلوچستان کے علاقے سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں امن کے قیام اور قبائلی علاقوں سمیت ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بلوچستان میں ترقی کے عمل میں خلل نہیں پڑے گا، کیونکہ اس علاقے میں ترقی ان کے بقول صوبے اور ملک کے مفاد میں ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی اہم جغرافیائی حیثیت ہے اور اس حیثیت میں خطے کے امن اور سلامتی کے لیے اپنا درست کردار ادا کرتا رہے گا۔ کانفرنس کے دوسرے سیشن میں وزیراعظم شوکت عزیز، سٹیٹ بینک کے گورنر، تجارت اور صنعتوں کے وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی اور غربت کے حاتمے، صنعتی اور زرعی ترقی کے بارے میں فوجی قیادت کو بریف کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||