BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 June, 2005, 04:25 GMT 09:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی وزیر اعظم سے اپیل

News image
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپیل کی ہے کہ وہ امن کے عمل کو کامیاب بنانے کے لئے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بند کرانے کے لئے احکامات جاری کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبادی والے علاقوں سے فوج کو واپس بلایا جائے تا کہ کشمیری عوام کو راحت مل سکے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے یہ اپیل جمعہ کی رات کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے رہنماؤں کو اپنی طرف سے دیئے جانے والے عشائیے کے دوران کی۔ لائن آف کنڑول کے دونوں جانب کے کشمیری رہنما بھارتی فوج پر اپنے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہیں لیکن ہمیشہ ہی یہ کشمیری رہنما بھارتی حکومت سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں لیکن اس بار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم نے اپیل جاری کی۔ ۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ’ ہمیں خوشی ہے کہ بھارت کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے لچک دکھانا ہے‘ ۔

انھوں نے کہا کہ بس سروس کے بعد حریت کانفرنس کے رہنماوں کو مظفرآباد آنے کی اجازت دینا بھارت کی طرف سے دوسرا بڑا اقدام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن اس ماحول کو برقرار رکھنے کے لئے بھارت کو کچھ اور اقدامات کرنے ہوں گے بالخصوص انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بند کرنا ہوں گی ۔

اس موقع پر سکندر حیات نے کہا کہ لائن آف کنڑول کے دونوں اطراف کے کشمیری امن پسند ہیں اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان آپس میں لڑیں اور ہم یہ بھی نہیں چاہتے ہیں کہ کشمیری تکلیف میں رہیں انھوں نے کہا کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کی خواہش ہے کہ ہم مل کر ہندوستان اور پاکستان کا ہاتھ بٹائیں تا کہ مسلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل کی طرف یہ بڑھیں ۔

لیکن انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر وہی حل دیرپا ہوگا جس میں دونوں طرف کے کشمیریوں کی رائے شامل ہو ۔
البتہ انھوں نے کہا کہ لائن آف کنڑول کو مستقل سرحد میں تبدیل کرنا قابل قبول نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر پر جوں کی توں صورت حال قابل قبول ہے ۔انھوں نے کہا اس موقع پر دونوں طرف کی کشمیری قیادت میں وسیع اتفاق رائے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد