کشمیری لیڈر مشرف سے ملیں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے کشمیری علیحدگی پسند رہنما آج پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملاقات کریں گے۔ کشمیری رہنما جو دو جون کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آئے تھے ان کے مطابق وہ صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے کئ تجاویز پر بات کریں گے۔ کشمیری رہنما اس وقت دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ خورشید قصوری سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس بات چیت کے بعد کشمیری رہنما ایک ظہرانے میں شرکت کریں گے۔ یہ رہنما صدر جنرل پرویز مشرف سے منگل کی شب ملاقات کریں گے اور صدر کی طرف سے دیئے گئے عشائیے میں بھی شریک ہوں گے۔ پاکستانی حکام اور کشمیری رہنما دونوں صدر جنرل پرویز مشرف سے کشمیری رہنماؤں کی ملاقات کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والے میر واعظ عمر فاروق، مولانا عباس انصاری، پروفیسر عبدالغنی بھٹ، بلال غنی لون، فضل قریشی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک سمیت نو رہنما صدر سے ملاقات کریں گے۔ یہ رہنما اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ان رہنماؤں نے اتوار کو پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی ملاقات کی تھی جس کے بعد میر واعظ عمر فاروق نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر پاک-بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کی شمولیت کا راستہ تلاش کرے گا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس سال اپریل میں اپنے دورۂ بھارت کے دوران ان کشمیری رہنماؤں سے دہلی میں ملاقات کی تھی جس کے بعد انھوں نے کشمیری قیادت کو پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ستاون سال کے بعد کسی بھی کشمیری رہنما کو لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم حریت کانفرنس کے سخت گیر موقف رکھنے والے رہنما سید علی شاہ گیلانی نے دیگر کشمیری رہنماؤں کے ساتھ پاکستان آنے سے یہ کہہ کے انکار کر دیا تھا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے پر اپنے روایتی موقف سے دستبردار ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||