کشمیری رہنماوں کا دورۂ لاہور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ انہوں نے لائن آف کنٹرول کو کبھی سرحد تسلیم نہیں کیا اور نہ کریں گے۔ پیر کی صبح حریت کانفرنس کے رہنما جہاز کے ذریعہ لاہور پہنچے تو پنجاب کے وزیراعلی پرویز الٰہی نے ان کا استقبال کیا اور ان سے ملاقات کی۔ ان رہنماؤں کو سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا۔ وفد میں پاکستان آنے والے تمام کشمیری رہنما شامل تھے۔ بعد میں یہ رہنماء سرکاری ملازموں کی گاڑیوں اور ایلیٹ پولیس کے کمانڈوز کے پہرے میں لاہور کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لیے گئے۔ جب یہ مینار پاکستان پہنچے تو وہاں پر لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود ان کے ساتھ تھے۔ مینار پاکستان پر چار پانچ سو لوگ جمع تھے جنہیں مقامی کونسلرز حکومت کے کہنے پر لے کر آئے ہوئے تھے۔ ان میں کچھ لاہور میں رہنے والےکشمیری بھی شامل تھے۔ ان لوگوں نے کشمیری رہنماؤں کو دیکھ کر کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور چند کشمیری نوجوانوں نے کشمیری رہنما یاسین ملک کو کندھوں پر اٹھا لیا۔
تاریخی مقامات کے دورہ کے دوران میں یاسین ملک وفد کے باقی لوگوں سے الگ تھلگ رہے۔ کشمیری رہنماؤں نے مینار پاکستان کے چبوتری پر چڑھ کر اس کا طرز تعمیر دیکھا اور اس پر کنندہ قرارداد پاکستان پڑھی۔ بعد میں یہ رہنماء علامہ اقبال کے مزار پر گئے جہاں انہوں نے فاتحہ خوانی کی۔ مزار پر کشمیری رہنماؤں کی موجودگی کے دوران نابینا بچوں کا ایک گروپ کشمیر کے ترانے گاتا رہا۔ کشمیری رہنماؤں نے بادشاہی مسجد کے اندر جاکر مسجد کو دیکھا اور وہاں نماز بھی ادا کی۔ بعد میں یہ لوگ سٹیٹ گیسٹ ہاؤس روانہ ہوگئے۔ میر واعظ فاروق نے صحافیوں سے مختصر بات چیت میں کہا کہ ان کے وفد کا پاکستان میں ان کی توقع سے بڑھ کر استقبال کیا گیا ہے۔ مولوی عباس انصاری نے کہا کہ وہ اچھی توقعات اور امیدیں لے کر آئے ہیں اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے کشمیر میں سڑک کا راستہ کھولنےکا کوئی فائدہ نہیں جب تک کشمیر کا ’ کور ایشو‘ حل نہ کیا جائے جس پر بھارت اور پاکستان کے درمیان چار جنگیں ہوچکی ہیں اور ہمیشہ کشمیریوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدہ میں مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا ذکر کیاگیا لیکن یہ بات مبہم چھوڑ دی گئی کہ کونسا کشمیر ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر ہے یا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر۔ مولوی عباس انصاری نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا ٹائم فریم ہونا چاہیے اور یہ جتنی جلدی حل ہوگا اتنا ہی اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا ہو۔ پنجاب کے گورنر خالد مقبول نے حریت کے رہنماؤں کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا ہوا ہے جہاں سے یہ شام کو اسلام آباد روانہ ہوجائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||