 |  بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی مسافر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا |
ستاون برس کے بعد سرینگر سے مظفر آباد جانے والی بس مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے پاکستان کی طرف روانہ ہو گئی ہے۔ اس سے قبل سرینگر میں حملے کے باوجود انڈیا اور پاکستان نے بسوں کے چلانے پر جبکہ مسافروں نے سفر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں اس سیاحتی مرکز پر مبینہ علیحدگی پسندوں نے ایک حملہ کیا تھا جس کے دوران مقابلے میں حملہ آوروں کے ہلاک ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ ہمارے نامہ نگار الطاف حسین نے بتایا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے کیا گیا۔ حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ سات افراد اس واقعہ میں زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت سے کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ پروگرام کے مطابق پاکستان جانے والی بس کو رخصت کریں گے۔ پاکستان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بس پروگرام کے مطابق روانہ ہو گی۔ اس سے پہلے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں سری نگر کے ٹورسٹ ریسیپشن سینٹر پر حملے کی خبر اس سری نگر جانے والے مسافر اپنی تیاریوں کو آخری شکل دے رہے تھے۔ انہوں نے اس خبر پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کے وز یر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی اس کی سختی سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بچھڑے ہوئے کشمیری خاندانوں کو ملنے سے روکنے کی کوشش قابل مذمت ہے۔ |