BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 17:22 GMT 22:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن سنگھ کا بیان: سرحد کے بغیر کشمیر ممکن
دہلی میں مشرف اور منموہن سنگھ
دہلی میں مشرف اور منموہن سنگھ
انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’سرحدوں کے بغیر کشمیر‘ کے تصور کی طرف بڑھنا ممکن ہے۔ غیر ملکی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے پہلے ان معاملات کو دہرایا جو انڈیا کو منظور نہیں پھر انہوں نے کہا کہ انہیں کشمیر کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم منظور نہیں اور نہ ہی ان کے پاس ایسا مینڈیٹ ہے جس کے تحت اب سرحدیں دوبارہ سے بدلی جاسکیں۔ لیکن جب منموہن سنگھ انُ معاملات کی طرف آئے جو ان کے خیال میں ممکن ہیں تو انہوں نے کئی نئی باتوں کی طرف اشارہ دیا جو انڈیا کے روایتی موقف سے ہٹ کر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ان باتوں کو سمجھ جائے جو انڈیا کو قبول نہیں تو پھر ’امکانات لا محدود ہیں۔‘

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ’ہمارے (پاکستان اور انڈیا) درمیان بہت سی قدریں مشترک ہیں اور ہمیں مل کر ایسے حل کے لئے کوششیں کرنا چاہئیں جس کے تحت ایک ایسے کشمیر کے تصور کی طرف بڑھنا ممکن ہے جس میں ایک طرح سے سرحدیں بے معنی ہوجائے یعنی اس سے کوئی فرق نہ پڑے کہ کوئی سری نگر میں رہ رہا ہے یا مظفر آباد میں۔‘ منموہن سنگھ نے کسی بھی ممکنہ حل کے بارے میں کوئی ٹھوس بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیچیدہ اور تاریخی معاملہ ہے۔ ’امن کا عمل صحیح سمت میں چل رہا ہے اور وہ جنرل مشرف سے مزیر ملاقاتیں کرنے کے خواہاں ہیں۔‘

وزیراعظم منموہن سنگھ کے اس بیان پر کہ بغیر سرحد کے کشمیر ممکن ہے، آپ کا کیا ردعمل ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

خالد محمود، کینیڈا:
میرے خیال میں شاید اب وقت آگیا ہے کہ یہ شعبدہ بازی ختم ہوجائے۔ ایک نن۔کشمیری کی کشمیر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم لوگوں کو کشمیر سے کیا چاہئے۔ ایک انچ زمین کا ٹکڑا بھی ہم نن۔کشمیری خرید نہیں سکتے وہاں۔ یہی حال ہندوستان میں بھی ہے۔ جب کہ کشمیریوں نے پاکستان اور ہند میں جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔

مظہر شاداب، ممبئی:
منموہن سنگھ کا یہ بیان دونوں ملکوں کے عوام کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں ہے۔۔۔۔۔

عتیق الرحمان، سرگودھا:
پاکستان بنانے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ پاکستان اور انڈیا اپنی سرحدوں پر فوجیں کھڑی کردیں۔ انڈیا کے ساتھ حالات خراب کرنے کی زیادہ ذمہ داری پاکستان کی ہے اور پاکستان کو لچک دکھانی چاہئے۔ ورنہ انیس سو اکہتر میں دو ہوئے تھے، دو پھر کچھ عرصے بعد تین ہوجائیں گے۔ مجھے اور زیادہ نہیں پتہ لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی گورنمنٹ میں موجود لوگوں کو پاکستان سے کوئی سروکار نہیں اور وہ صرف اپنی جیبیں بھر رہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب دوبارہ انیس سو اکہتر والا سانحہ ہو۔ اگر کشمیر ایک مشکل ٹاسک ہے تو چھوڑ دیں، باقی پاکستان کی فکر کریں۔

سید رحمان، کینیڈا:
یہ مشورہ انڈیا اور پاکستان سے نہیں آیا ہے، یہ انکل سیم (امریکہ) سے آیا ہے۔

مجیب راجہ، سعودی عرب:
یورپ اور امریکہ کا بنایا ہوا کشمیر اسٹریٹجی گروپ پہلے سے تیار ایک فارمولے پر کام کررہا ہے جو کہ مکمل ایک خودمختار کشمیر ہوگا۔ انڈین ہیلڈ کشمیر کا ڈیفنس انڈیا کے پاس اور آزاد کشمیر کا ڈیفنس پاکستان کے پاس ہوگا اور اس فارمولے پر دونوں ملک راضی ہیں۔

شعیب، بنوں:
کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔۔ سفید جھوٹ، ڈرامہ نہیں۔

محمد اقلیم، ممبئی:
سرحد کے بغیر کشمیر، ناممکن نہیں ہے۔ انڈیا اور پاکستان مقبوضہ کشمیر کو ملاکر ایک کشمیری ریاست بنائی جاسکتی ہے۔ یہ دیگر بات ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک حکومتی انتظام موجودہ صورتحال کے مطابق چلتا رہے۔ سرحد کے بغیر کشمیر کے بعد امید ہوسکتی ہے کہ سرحد کے بغیر بھارت اور پاک بھی (؟) ہو جائیں اور برصغیر کا یہ خطہ پھر سے ہندوستان بن جائے!

گل وہاب، پشاور:
اس سے نہایت موزوں وقت پھر کبھی نہیں آسکتا۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ وقت کی آواز سنیں۔ اور وقت کی آواز یہ ہے کہ مسائل کا پرامن حل ہو۔ انتہا پسندی سے کچھ نہیں بنا اب معاشی اور سماجی ترقی کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔

عبدالحنان، فیصل آباد:
یہ سب کچھ ڈرامہ ہے۔ اگر انڈیا چاہتا تو اقوام متحدہ کی قرارداوں پر عمل کیوں نہیں کرتا۔۔۔

صغیر راجہ، سعودی عرب:
کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کشمیر کا بیسٹ حل یہ ہے کہ دونوں سائیڈ کے کشمیر کو اقوام متحدہ کی افواج کے حوالے کیا جائے۔ ہند پاک اپنی افواج نکال لیں اور کشمیری کچھ عرصہ سکون کی سانس لیں پھر عالمی افواج کے تحت وہاں رائے شماری کرائی جائے پھر جو نتیجہ آئے اس کو ہند و پاک فراخدلی سے قبول کریں۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد:
کہاں تک سنوگے، کہاں تک سناؤں ۔۔۔۔۔

عبدالجلیل میر، سعودی عرب:
میں اتفاق کرتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا اپنی افواج کشمیر سے اپنے سرحد پر واپس لے جائیں اور کشمیریوں کو حکومت بنانے کا چانس دیں اور کشمیری پولیس لا اینڈ آرڈر کی ذمہ داری سنبھالے۔ انڈیا اور پاکستان مداخلت نہ کرنے کی گارنٹی بھی دیں۔

محمد زاہد خان، لاہور:
بغل میں چھڑی منہ میں رام کے مترادف ہے۔ ان پہلوؤں کے پیچھے چھپے ہوئے خنجر کے دیکھنا ہوگا۔ یا ایسا سمجھ لیں کہ نئے شکاری پرانا جال لے آئے ہیں۔

انجینیئر ایم ندیم اشرف، پاکستان:
ہم اپنے کشمیریوں کی قربانی ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ کیوں کہ انہوں نے صرف پاکستان کی خاطر اپنی زندگی قربان کی۔ ان کی زندگیاں اتنی سستی تو نہیں کہ اس معاملے کو سرحدوں کے بغیر حل کیا جائے۔ ہم اتنے خود غرض کیسے ہوگئے کہ ہم اپنے کشمیر بھائیوں کا ساتھ نہ دیں؟ انڈیا کو بھی پتہ ہے کہ کشمیری صرف پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں، انڈیا کو کیا تکلیف ہے؟ اسے پہلے اسٹیٹ ٹیرورزم بند کرنی چاہئے، یہ بہت بڑا دہشت گرد ہے۔ ہم مسلمان ہیں ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔۔۔۔

نعیم شیخ، جاپان:
ہم اس سے متفق نہیں۔ ہم اپنا کشمیر چاہتے ہیں ایک مسلم ریاست کے طور پر ، پاکستان کے سرحد پر۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
یہ سب ٹائم پاسِنگ ہے، ہمارے جنرل صاحب اور مسٹ منموہن بھی کررہے ہیں اور ویسے بھی ایک میان میں دو تلواریں کیا رہ سکتی ہیں؟ کبھی نہیں۔ اور سب سے بڑی بات ہم یہ سب کچھ کس کے لئے کررہے ہیں، جو کہ ہمارے کنٹری میں آنا بھی نہیں چاہتے، جیسےکہ مسٹر گیلانی۔

محمد علی، کیلیفورنیا:
مسٹر سنگھ کو سننے کی ضرورت کہ مشرف کیا کہہ رہے ہیں۔ کنفلِکٹ مینجمنٹ کا وقت ختم ہوچکا ہے، کنفلِکٹ ریزولوشن کی ضرورت ہے۔

سکندر بلوچ، بینگ کاک:
میرے خیال میں اگر دونوں طرف نیک ارادے کا مظاہرہ کیا جائے تو اب تک کشمیر ایشو حل ہوجاتا۔ لیکن پہلی بات تو دونوں ممالک پرخلوص نہیں، بالخصوص پاکستان اور انڈیا دونوں کی ملٹری نہیں چاہتی کہ یہ مسئلہ حل ہو۔۔۔۔

نعیم انور، مانٹریال:
سرحد کے ساتھ یا اس کے بغیر اس مسئلے کا حل کریں اور کشمیریوں کو امن کے ساتھ رہنے دیں۔ اور دونوں ممالک ہتھیار خریدنے کے بجائے فلاح و بہبود کے کام کریں۔

مرسلین نیازی، بیجنگ:
انڈین پی ایم کا بیان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اسٹریٹجی ہے یہ بتانے کے لئے کشمیر میں امن ہے اور انڈیا کو سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت ملنی چاہئے۔ اگر انڈیا اپنے ارادوں میں مخلص ہے تو جواہر لعل نہرو کے اس بیان پر چلے جس میں انہوں نے کشمیریوں کو حقِ رائے دہی کی بات کی تھی۔ انڈیا کو کس نے کہا کہ انڈین ہیلڈ کشمیر کو انڈین آئین کا حصہ بنادے؟۔۔۔۔

برحان، بہاولپور:
یہ کوئی حل نہیں ہے کہ کشمیر پاکستان کا ہے اور کشمیری پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔

عابد رحمان، سویڈن:
انڈین پرائم منسٹر کا مشورہ دانش مندانہ لگتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔ اس کا حل دونوں ممالک کے فائدے کے لئے ہوگا۔

ساجل احمد، لاس ویگاس:
کشمیر کی قسمت کا فیصلہ ہر دفعہ دوسرے ہی کیوں کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ آخر کوئی ان معصوم لوگوں سے بھی تو پوچھے جنہوں نے اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کی جان مال اور عزت کی قربانی دی ہے اور دیتے چلے جارہے ہیں۔ یہ مشرف اور منموہن کون ہیں جو ان کی زندگی کا فیصلہ کرنے بیٹھ گئے ہیں؟

محمد طارق، کینیڈا:
لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہ کھل کر امریکہ کے بتائے ہوئے حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس طرح کا حل نہ تو پاکستان چاہتا ہے نہ ہی انڈیا بلکہ امریکہ چاہتا ہے۔۔۔۔

اشفاق نظامانی، ٹورانٹو:
دور جدید میں سرحدوں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ مستقبل میں جنوبی ایشیا میں کوئی سرحد نہیں ہونی چاہئے۔ کیوں نہیں؟ جرمنی اور فرانس کے درمیان حقیقت میں کوئی سرحد نہیں ہے، وہ جب چاہیں سفر کرسکتے ہیں۔ یہی بات ہے انگلینڈ، فرانس اور جرمنی کے درمیان۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔ اگر آج کے انڈیا اور پاکستان کے رہنما اقدام نہیں کریں گے اور تاریخ میں اپنا نام رقم نہیں کرائیں گے، تب بھی مستقبل کے دوسرے رہنماؤں کی یہی کرنا پڑے گا۔

زین عابدین، میشیگان، امریکہ:
یہ ایک خوشی کی بات ہے، کم از کم ہندوستان نے اسے ایک مسئلہ تو مان لیا۔ پہلے ہندوستان اٹوٹ انگ سے آگے کچھ کہنے کو تیار نہیں تھا۔

جمیل اختر بشیر، یو کے:
کشمیر پر پہلے ہی انڈیا اور پاکستان کی فوجی حکومت کے درمیان ڈیل ہوچکا ہے۔ انڈیا ایک جمہوریت ہے اور وہ اپنے عوام کی خواہشات کے خلاف فیصلہ نہیں کرسکتا، جبکہ فوجی حکومت کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا اور انڈیا کو سب کچھ ملے گا۔ آخر میں اگر اس ڈیل کے نتائج ٹھیک نہیں رہے جیسا کہ افغانستان میں ہوا تھا، تو فوجی الیٹ تو بچ جائیں گے، لیکن کٹھ پٹلی سیاست دانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

علی چشتی، کراچی:
ہم سب جانتے ہیں کہ انڈیا کیا چاہتا ہے۔ انڈیا حقیقت میں آزاد کشمیر چاہتا ہے۔۔۔۔

محمد فدا، کینیڈا:
وہ اسے ایک انٹرنیشنل ایریا بنانا چاہتے ہیں جسے جوئانٹ کمیشن یا اقوام متحدہ مینیج کرے؟ لگتا تو نہیں ہے کہ یہ انڈو پاک طریقہ ہے کام کرنے کا۔۔۔۔

محمد ارشد، جھنگ:
بھارتی وزیر اعظم کے بیان سے لگتا ہے کہ مستقبل میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی سرحد نہیں ہوگی۔ یہ بات تو نظریہ پاکستان کے خلاف ہے اس لیے بغیر سرحد کے کشمیر کا تصور ناممکن ہے۔

جمیل شیخ، ایٹلانٹا، امریکہ:
مسٹر سنگھ کا بیان کشمیر کے حل کی طرف ایک قدم ہے۔ ہم سب کو اس کی تائید کرنی چاہیے۔ سرحدیں تو ویسے بھی صرف غریب لوگوں کے لیے ہیں۔اگر اس مسئلہ کشمیر کو حل کر لیں تو انڈیا اور پاکستان بہت ترقی کریں گے۔ جو پیسہ فوج پر خرچ ہو رہا ہے وہ دونوں ملکوں کے عوام پر خرچ ہوگا۔لیکن پاکستانی فوج کبھی مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرے گی کیونکہ اس طرح اس کی روزی ماری جائے گی۔

اعظم شہاب، ممبئی، انڈیا:
انڈیا اور پاکستان کے عوام ایک ہیں، ان کی قدریں مشترک ہیں، ان کی تہذیب اور ثقافت ایک دوسرے سے ملتی ہے تو پھر یہ کیوں ممکن ہوکہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے دور رہیں۔

انڈیا اور پاکستان کو اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہوگا چاہے وہ استصواب رائے کے ذریعے ہویا بغیر سرحد کے کشمیر کے فارمولے کے ذریعے۔ منموہن سنگھ نے یہ فارمولا پیش کرکے اپنے ملک کے عوام کی ترجمانی کی ہے۔ اب مشرف صاحب کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔

سعدیہ سلمٰی، لندن:
سرحد کے بغیر کشمیر ملے نہ ملے اس قسم کی باتیں ضرور سننے کو ملیں گی۔

عطاءالرحمٰن، راولپنڈی:
اگر انڈیا سیرئس ہو گیا ہے تو اب پاکستان کو بھی قدم بڑھاناچاہیے کیونکہ فاصلہ کتنا ہی طویل ہو شروع ایک قدم سے ہی ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہم آدھی عمر تو لڑ کرگزار چکے ہیں، اس میں نقصان کے علاوہ کچھ نہیں ملا اب باقی کی دوست بن کے گزارنی چاہیے۔

سید الطاف حیدر، مردان:
کرو کچھ نہ، محض مصروف نظر آؤ۔

محمد علی مہر، ہیوسٹن، امریکہ:
میری ناقص رائے کے مطابق صرف وہی حل سب کوقابل قبول ہونا چاہیے جو کشمیریوں کو قبول ہو۔ میرا خیال نہیں کہ کسی دوسرے کشمیریوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہے۔

زاہد رانا، گجرانوالہ:
یہ سب ڈرامہ ہے۔ اگر انڈیا کشمیر پر کچھ کرنا ہی چاہتا ہے تو پھر اسے یو این او کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرکے کشمیر کا حل کشمیریوں کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہئے۔۔۔۔۔

سرفراز علی، لندن:
چونکہ انڈیا ایک ڈیموکریٹِک ملک ہے اس لئے وہاں کے رہنما اپنے عوام کی رائے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاسکیں گے۔۔۔۔

راحت ملک، نصیرآباد:
جتنی کشیدگی رہی ہے پاکستان اور انڈیا میں اس کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ منموہن سنگھ کا بیان خوش آئند ہے۔ اس سے کم از کم دونوں طرف کے عوام کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ کشمیر کا مسئلہ متنازعہ ہے، اس کا حل آسان ہوتا نظر آرہا ہے۔

قیصر چشتی، انگلینڈ:
انڈین وزیراعظم نے واضح طور پر پاکستان کو بتایا کہ کوئی حقیقی حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میکسیمم آٹونامی کشمیر کو دیں گے جب تک اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل میں ویٹو نہیں مل جاتا۔۔۔۔۔

یاسر ممتام، رینالہ خرد:
دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔۔۔۔

شیخ محمد یحیٰ، کراچی:
کشمیر نہ پاکستان کا تھا، نہ ہی ہوگا۔ بس سروس ہو یا سرحدیں کھولنے کی بات یہ سب کشمیریوں اور پاکستانیوں کو لالی پاپ دینے کے مترادف ہے۔

ندیم سلیمی:
ویل، آپ کہاں تک جائیں گے؟ پہلے کشمیر میں کسی سرحد کی بات نہیں، اور بعد میں ہو برصغیر میں سرحد ہٹانے کی بات بھی کرسکتے ہیں۔ میں مسئلے کے حل کے خلاف نہیں ہوں، لیکن اس کی حدود محدود کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ کہاں تک جاسکتے ہیں۔۔۔۔

گل انقلابی سندھی، دادو:
کشمیر کا انڈیا سے تعلق نہیں، پاکستان سے بھی اس کا تعلق نہیں۔ کشمیر کو صرف کشمیر ہی رہنے دیں۔۔۔۔

غماز، لندن:
انڈیا کو حقیقت کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے۔کشمیری انڈیا کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ میرے خیال میں منموہن سنگھ کا موقف صحیح ہے۔ اگر انڈیا اس تنازعے کو حل کرنا چاہتا ہے تو کشمیر کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ یہ قدم صحیح سمت میں ہے۔

فدا محمد، امریکہ:
انڈیا ایک سینٹی میٹر بھی مشرف کو نہیں دے گا۔ مشرف کے دور حکومت میں پاکستان ایک سیٹیلائٹ کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔

ایچ حسین، یو کے:
میرے خیال میں پاکستانی انتظامیہ کو اس بھارتی موقف میں لچک کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ گولڈن چانس ہے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسائل کے حل کے لئے۔

66آپ کی رائے
شدت پسندوں کا حملہ اور کشمیر بس
66آپ کی رائے
کرکٹ ڈِپلومیسی کتنی کامیاب رہے گی؟
66آپ کی رائے
ایل کے اڈوانی کا دورۂ پاکستان
66سسرالی شہرمیں ففٹی
سرحد پار محبت میں کیا مسئلے پیش آسکتے ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد