 |  کیا محبت اور جنگ میں سب جائز ہے؟ |
اس وقت جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کی جنگ جاری ہے، پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور ایک ہندوستانی لڑکی کے درمیان محبت نے بھی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ شعیب ملک نے حیدرآباد میں جہاں پہلی مرتبہ اپنے سسرالی خاندان سے ملاقات کی وہاں وارم اپ میچ میں ایک نصف سنچری بھی سکور کی۔ شعیب کی عائشہ سے ملاقات کی کہانی بھی بالی وڈ کی کسی فلم سی لگتی ہے۔ سال دو ہزار میں جب شعیب پاکستانی ٹیم کے ساتھ دوبئی گئے تو عائشہ ایک ہوٹل میں اپنی چابیاں بھول گئیں جنہیں شعیب لوٹانے کے لیے آئے۔ یوں شروع ہونے والی دوستی دو ہزار دو میں فون پر ہونے والے نکاح میں بدل گئی۔ عائشہ نے جب یہ خبر اپنے والدین کو سنائی تو وہ شروع میں ناراض ہوئے اور پھر رضامند ہوگئے۔ تاہم جہاں ایک طرف اس طرح کی خبریں سننے میں آتی ہیں وہاں دوسری طرف اداکارہ میرا کو ایک بھارتی فلم میں کام کرنے پر بقول ان کے موت کی دھمکیاں ملنے کی خبریں بھی چند دن پہلے تک چھپتی رہی ہیں۔ آخر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں اس طرح کے تضادات کیوں ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ پاکستان میں ہر بس، گلی اور دکان پر انڈین گانوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور بھارتی فلمی ستارے انتہائی ہر دلعزیز ہیں لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد ہر قدم پر انڈیا سے مقابلے کے لیے تیار دکھائی دیتی ہے؟ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر ’جنگ اور محبت میں سب جائز ہے‘ والا محاورہ کیوں صادق آتا ہے؟ کیا آپ یا آپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ شعیب ملک جیسے واقعات پیش آئے ہیں؟ آپ کو اس میں کیا مشکلات پیش آئیں؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے
وحید علی، جدہ: میری تو دعا ہے کہ ایسے واقعات ہزاروں کی تعداد میں ہونے چاہئیں کیوں کہ میں بھی ایک پاکستانی ہوں اور میں بھی انڈیا کی لڑکی سے پیار کرتا ہوں جو حیدرآباد دکن سے ہے۔ انشاء اللہ ہم جلد ہی شادی کریں گے۔ ریاض فاروق، کراچی: مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ میرا صرف فلم میں کام کرنے کے لئے ہر کام کرجائیں۔۔۔۔۔ فہیم، پاکستان: انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔۔ محمد اشرف، مناما: شعیب ملک کی طرح کے واقعات کبھی کبھی ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک بھارتی فلموں کو دیکھنے والے شاید قومی غیرت کو دفن کرچکے ہیں۔ یہ لوگ ایسی فلمیں دیکھ کر کیسے سکون محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔ کامران ایوب، سنٹرل لندن: رشتے تعلقات اور رابطے تین مختلف چیزیں ہیں۔ جہاں تک رشتوں کو دیکھا جائے تو دنیا کا ہر شخص جو مسلمان ہے وہ پاکستانی ہے کیوں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اس لئے پاکستانیوں کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مسلمان انڈین ہے یا۔۔۔۔ وقار شاہ: میں نیویارک میں رہتا ہوں اور میری ہونے والی اہلیہ انڈین ہیں۔۔۔۔ عارف رانا، کینیڈا: زندگی میں کوئی دشمن بھی تو ہونا چاہئے۔ ہر طرف محبت کے بول بھی اتنے اچھے نہیں لگتے۔ فرید ویرانی، کراچی: جی ہاں، جنگ اور محبت میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ شعیب ملک، کوئی ٹھیک سمجھے یا نہ سمجھے، میں ٹھیک سمجھتا ہوں اور میرا پورا فرینڈ سرکل آپ سے متفق ہے۔ ماز_ایوان، کینیڈا: جہاں تک بات شعیب کی محبت کی ہے تو لڑکی مسلم ہے۔ بس بات ختم ورنہ تو پاکستان والے اس پر بھی بڑا اعتراض کرتے ہیں کہ۔۔۔۔ (واضح نہیں)۔ رضا احمد، پاکستان: میرے خیال میں کھلاڑیوں کو ملک کے لئے رول ماڈل ہونا چاہئے، پاکستانی لڑکیاں پوری دنیا میں سب سے بہتر ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ شعیب کے لئے پورے ملک میں لڑکی نہیں ہے۔ پاکستان میں غیرملکی لڑکی سے شادی کرنا سماجی حیثیت کے لئے اچھا سمجھا جاتا ہے اور شعیب ملک جیسے لوگوں کو یہ جاننا چاہئے کہ وہ ملک کے نوجوانوں کے لئے رول ماڈل ہیں۔ میں اس شادی کے خلاف ہوں۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ: انڈیا اور پاکستان ایک سکے کے دو الگ الگ رخ ہیں۔ ہم کچھ بھی کرلیں، ہم ایک نہیں ہوسکتے کیوں کہ ہم کسی کے دشمن نہیں اور وہ ہمیں دوست تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔۔۔۔ کاشف اسلام، لاہور: اس تضاد کی سب سے بڑی وجہ ہے ہمارا نصاب ہے۔ ہم لوگوں کو، خاص طور سے میرے نسل کے لوگوں کو کتابوں میں ایک ہی بات بتائی جاتی رہی ہے کہ انڈیا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اب اتنے دنوں کے بعد اچانک آپ کے بدترین دشمن آپ کا بہترین (دوست) کیسے بن سکتا ہے؟ رہی بات انڈین گانے سننے کی تو جیسے یہاں انڈین فلمیں اور گانے پسند کیے جاتے ہیں، ویسے ہی انڈیا میں پاکستانی گانے سنے جاتے ہیں اور یہ انسان کی فطرت ہے کہ اسے اپنے گھر کا کھانا اتنا پسند نہیں ہوتا جتنا ہمسائے کے گھر کا۔۔۔۔ ضیاء سید، کینیڈا: اگر ہم انڈین ڈانسر کو پسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انڈیا کو پسند کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ عمران بیگ، یو کے: انڈین فلمیں کوالٹی کی وجہ سے پاکستان میں مقبول ہیں لیکن دو قومی نظریہ اپنی جگہ اٹل ہے اور کسی قیمت پر بھارت سے دوستی ہمیں منظور نہیں ہے۔ شادی کے معاملات اس سے الگ ہیں، شادی کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ مفکر، بہاولپور: محبت اور جنگ میں سب ٹھیک ہے۔ سنا نہیں آپ نے محبت اندھی ہوتی ہے، تو پھر پاکستان کیا، انڈیا کیا؟ قدم بڑھاؤ شعیب ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ جاوید جمال الدین، ممبئی: میں گذشتہ مہینے انٹرنیشنل ایکسچن وزیٹیر کے طور پر ایک ساؤتھ ایشین گروپ کے ساتھ امریکہ کے دورے پر گیا تھا۔ اس گروپ میں تین ہندوستانی، تین پاکستانی اور ایک ایک بنگلہ دیش، نیپالی اور سری لنکا کے شہری تھے۔ اس سفر کے دوران محسوس ہوا کہ ہمارے پاکستان دوست نجی طور پر بھارت کی ترقی کا ہر حال میں اعتراف کرتے ہیں لیکن جہاں امریکن حکومت کے نمائندوں، دانشوروں اور شہریوں کے درمیان ڈیبیٹ میں شرکت کرتے ہیں تو ان کا ٹون بدل جاتا ہے اور انڈیا کے تعلق سے ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا کوئی وجود نہیں ہے۔۔۔۔۔ واجد زیدی، راولپنڈی: پیار کسی سرحد کا محتاج نہیں ہوتا، دشمنی ۔۔۔ سے نہیں اس کی ذہنیت سے ہے، پیار تو پھر بھی مسلم سے ہی کیا ہے، آپ دونوں کو کنگریچولیٹ کریں۔۔۔۔ نوروز علی، امریکہ: محبت اندھی ہوتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی دوستی بھی اندھی محبت کی طرح ہے جو دیکھی نہیں جاسکتی بلکہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ علی چشتی، کراچی: انڈیا میرے آباء و اجداد کا ملک ہے، پاکستان خصوصی طور پر میرے آباء و اجداد کے لئے بنایا گیا۔ پاکستان نے ہمیں سب کچھ دیا ہے۔ میں تین بار انڈیا گیا ہوں اور میں نے جو کچھ بھی دیکھا ہے میں خود کو لکی محسوس کرتا ہوں۔ اگر پاکستان نہیں بنا ہوتا تو میرے دادا جنرل نہیں بنتے اور میرے والد کیمسٹری میں پی ایچ ڈی حاصل نہیں کرتے۔ جہاں تک شعیب کا مسئلہ ہے، یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اسلم خان، ہانگ کانگ: انہیں شادی کرنے دیں، یہ ذاتی معاملہ ہے۔ ہمیں کوئی مشورہ نہیں دینا چاہئے۔ ماجد مرزا، چاہ جٹن، پاکستان: میرے خیال سے آپ میرا اور شعیب کا موازنہ نہ کریں۔ شعیب ایک سینسیبل بوائے ہے جو کرکٹ میں ہے، وہ انڈیا کے خلاف پاکستان کے لئے میچ میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ جبکہ میرا کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ خراب ہورہی ہے۔۔۔۔ شیخ محمد یحیٰ، کراچی: یہی تو دو قومی نظریہ کی اصل وجہ ہے، ہماری قوم ہر چیز برداشت کرلے گی مگر جہاں مقابلے کی بات آتی ہے وہاں دو قومی نظریہ سامنے آجاتا ہے۔ سید محمد عمران، جرمنی: پاکستان کی ترقی انڈیا کی مرہون منت ہے۔ آج ہم جس مقام پر بھی ہیں، اس کی بڑی وجہ انڈیا سے ہمارا کمپیٹیشن ہے۔ اب رہی بات تضادات کی تو یہوں بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام زیادہ ریزنیبل ہیں، اس لئے انڈیا سے اختلاف ہونے کے باوجود ان کی کوالٹی کی چیزوں کو اچھا کہتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں۔ شکیل ملک، لندن: مجھے خوشی ہے کہ شعیب ملک انڈیا کے داماد بن رہے ہیں۔۔۔ آئی آئی کہلون، امریکہ: تقسیم سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کہیں بھی کیا تقسیم سے مسائل کا حل ہوا ہے؟ جب انڈیا اور پاکستان ایک ملک کا حصہ تھے کوئی مسئلہ تھا؟ تقسیم کی وجہ سے لاکھوں لوگ ہلاک ہوگئے اور کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا۔ عبدالوحید، میری لینڈ، امریکہ: سیالکوٹی ہونے کی حیثیت سے شعیب کو سوچنا چاہئے کہ وہ کیا وہ بگھارے بینگن کے لئے تیار ہے۔۔۔ ہارون اعظم، کراچی: اس میں اتنے تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اگر شعیب کسی مسلم لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے سراہنا چاہئے۔ لیکن جب تک کشمیر کا تنازعہ ہے، پاکستانیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ کشمیر کو بھول جائیں۔ تمام دوستانہ روابط کے باوجود انڈیا بگلیہار ڈیم بنارہا ہے۔۔۔۔ ندیم رانا، بارسلونا: محبت میں مذہب اور روایت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ محبت جذبات کا نام ہے، امن اور حقیقی احساسات کا نام ہے۔ ساجد رحمان، مالاکنڈ ایجنسی: انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں تضاد اس لئے ہیں کیوں کہ اگر سیاست اور کشمیر کو پاکستانی دیکھتے ہیں تو انڈیا سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ اس لئے ہم ان سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہےکہ پاکستان میں انڈین ایکٹرس اتنے ہردلعزیز ہیں کہ پاکستان میں ایکٹرس ہیں نہیں اور فلم انڈسٹری اس قابل نہیں تو انڈین ہی ملے گا۔ اور شعیب ملک جیسا واقعہ پیش آئے تو شادی ہی کریں گے۔ ہم کو نفرت انڈیا سے ہی انڈین لڑکیوں سے نہیں۔ امن مہر، شارجہ: یہ مشکل راستہ ہے دونوں ملکوں کے تعلقات کا۔۔۔۔ شاد خان، ہانگ کانگ: انڈیا ہمیشے سے چاہتا ہے کہ قاعد اعظم محمد علی جناح والا دوقومی نظریہ غلط ہے اور ہم پاکستانی ہر قیمت پر انڈیا کو غلط کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ محمد بخش، جوہی سندھ: شعیب کو بھی مرلی کی طرح لوگوں کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر شادی کرنی چاہئے۔ اگر اس کی وائف کا تعلق انڈیا سے ہے تو کیا ہوا، ہے تو اصل میں مسلمان۔۔۔۔ پیار کا مذہب نہیں ہوتا۔ عابد علی خان، دوبئی: یہ کافی اچھا ہے۔ میرے پاس مثال نہیں۔ لیکن یہ انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کو سمجھنے کے لئے بہت ہی اچھی مثال ہے۔ شعیب اور عائشہ جذبات سمجھتے ہیں۔۔۔۔ نعیم، لاہور: کوئی مشکلات پیش نہیں آنی چاہئے کیوں کہ محبت سٹی یا کنٹری کی پابند نہیں ہے۔ فریدہ بھانی، حیدرآباد سندھ: انگریزوں نے پاکستان اور انڈیا کو تو دو حصوں میں تقسیم کردیا مگر وہ دونوں ملک کی ثقافت اور زبانوں کو تقسیم کرنے میں ناکام رہے۔ پہلے دونوں ملکوں کو سرد جنگ کے زمانے میں عالمی طاقتوں نے استعمال کیا اور رہی قصر دونوں جانب کے انتہا پسندوں کی تو اب عوام میں شعور آگیا ہے اور وہ واپس میں ایک اچھے پڑوسی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ شعیب ملک کو دنیا کی پرواہ کیے بغیر اپنی محبت کو اپنانا چاہئے۔ نفیس نصیر، اٹلانٹا: یہ شعیب کا ذاتی معاملہ ہے۔ بی بی سی کسی کی زندگی کے بارے میں کیوں پریشان ہے؟ شاہد محمود، فیصل آباد: اصل میں یہ ایک میڈیا وار ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن بھی شعور دیتی ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے اب اسے ایک طرف رکھ کر دنیا کے نئے تقاضوں کے مطابق سوچنا، دیکھنا، سمجھنا اینڈ فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اگرچہ ماضی بہت تلخ ہے لیکن اگر پھر بھی ہم نے نیو حالات کے مطابق سمجھوتے نہ کیے تو نقصان بھی ہوگا اور دنیا میں بھی پیچھے رہیں گے۔ ویسے بھی مسلم دنیا کے ایجوکیشنل لیول سب کو معلوم ۔۔۔ سید شفاعت حسین فخری، ابو ظہبی: ضروری نہیں کیوں کہ آپ لوگ شائع نہیں کرتے۔۔۔۔ عزیز خان، امریکہ: (ایکٹریس) میرا؟ کس کو پرواہ! اگر ان کی گرلس کو کِس کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بھی ہماری چِکس کو انہیں کِس کرنے دیں! گرو اپ پیوپل!! راحیل جعفری، کراچی: میں تو انڈین فلم اور گانے صرف ایک انٹرٹینمنٹ کی حیثیت کے طور پر سنتا ہوں، جہاں تک بات ہے انڈین سے مقابلے کی تو وہ ہمارا رائیول ہیں اور ہم ان کو تو یہ جنگ جاری رہے گی، آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے جو وہ ہمارے گانے، ڈرامے، فلموں کی کاپی کرتے ہیں۔۔۔۔ ف علی، ابو ظہبی: عشق نچایا گلی گلی۔۔۔شعیب کو نچائے عائشہ۔۔۔ حیدرآباد حیدرآباد۔ احمد جمیل ترک، لاہور: آپ محبت اور جنسی اظہار کو تو ایک دوسرے سے الگ ہی رکھیں۔ ایک تو دو انسانوں کا فطری اور سوسائٹی کے لئے قابل قبول رویہ ہے اور دوسرا جسم کا کمرشیل استعمال۔۔۔۔ |