BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 18 February, 2005, 10:03 GMT 15:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا بھارت دورہ
پاکستان دورے کے دوران پاکستانی کرکٹ شائقین بھارت کا پرچم لیے ہوئے
پاکستان دورے کے دوران پاکستانی کرکٹ شائقین بھارت کا پرچم لیے ہوئے
کئی ہفتوں کے 'سفارتی‘ تعطل کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر گجرات کےشہر احمدآباد میں ون ڈے میچ کھیلنے پر راضی ہوگئی ہے۔ پاکستان نے احمد آباد میں ٹیسٹ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد بھارت نے احمد آباد میں ون ڈے کی تجویز پیش کی تھی۔

پاکستانی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انضمام الحق ( کپتان)، یونس خان ( نائب کپتان)، یوسف یوحنا، عبدالرزاق، شاہد آفریدی، توفیق عمر، یاسر حمید، سلمان بٹ، شعیب ملک، عاصم کمال، کامران اکمل، محمد سمیع، رانا نوید الحسن، دانش کنیریا، ارشد خان اور محمد خلیل۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان ون ڈے اور ٹیسٹ میچ موہالی، احمد آباد، بنگلور، نئی دہلی، جمشیدپور اور کلکتہ میں منعقد کیے جارہے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کے موہالی کرکٹ سٹیڈیم میں ہونے والے ٹیسٹ میچ کے لیے آٹھ ہزار پاکستانیوں کو ویزے جاری کیے جائیں گے۔ بھارتی ٹیم کے پاکستان دورے پر بھی حکومتِ پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں ویزے جاریے تھے۔

فاسٹ بولر شعیب اختر بھارت کے دورے پر نہیں جا رہے ہیں۔ ادھر بھارت کی جانب سے سچن تندولکر ان فِٹ بتائے جاتے ہیں۔ پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا سے شکست کے بعد بھارت کا دورہ کررہی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے نائب کپتان کے عہدے سے یوسف یوحنا کو ہٹادیا گیا ہے۔

اس دورے پر تین ٹیسٹ میچ اور چھ ون ڈے میچ کھیلے جائیں گے۔ کرکٹ کی سطح پر اس سیریز سے آپ کی کیا امیدیں ہیں؟ اس سیریز سے دونوں ملکوں کے عوام کیا امیدیں کرتے ہیں؟ کیا یوسف یوحنا کو نائب کپتان کے عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ یونس خان کی تقرری کی جانی چاہئے تھی؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

سلیم شاہد، بالٹی مور:
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک ایسا کھلاڑی جو ابھی تک اپنی جگہ ہی نہیں بنا سکا، اس کا تعین کیسےنائب کپتان کے طور پر کردیا گیا ہے۔ تاہم مجھے لگتا ہے کہ ٹیم اچھا کھیلے گی اور امید ہے کہ یہ سیریز جیتے گی۔

حسیب خان، ملتان:
ٹھیک ہے کہ شعیب کو ٹیمپرامینٹ کا مسئلہ ہے اور وہ ان فٹ بھی ہوتے ہیں لیکن دنیا کے تمام تیز ترین بولرز کو ہمیشہ فٹ ہونے کا مسئلہ رہتا ہے۔ وہ ڈھائی اوور ہی کیوں نہ کھیلیں اور اچھی کے ساتھ بری بولز ہی کیوں نہ کرائیں وہ بریک تھرو دے دیتے ہیں۔ وہ کھیل میں ایک جوش اور ولولہ لے آتے ہیں۔ اب رہی بات مستقل مزاجی کی تو وہ باقی ٹیم میں کہاں ہے۔ ٹیم کی بات چھوڑیں وہ تو قوم میں ہی نہیں ہے۔

حماد علی، جرمنی:
سلیکٹر حضرات کی منطق وہی سمجھ سکتے ہیں۔ یونس خان کو نائب کپتان بنانا کہاں کا انصاف ہے؟

انصار باجوہ، پاکستان:
اللہ خیر کرے، لگتا ہے کہ یونس خان کی سفارش بہت بڑی ہے۔

رفیع محمد، کراچی:
انضمام کو کپتانی سے ہٹا کر وقار یونس کو لانا چاہیے تھا اور رانا کو ڈراپ کرنے کی ضرورت ہے۔

ہیرو اور زیرو
 شعیب خود کو ہیرو اور قوم کو زیرو سمجھتے ہ
آصف حسین، فرانس

آصف حسین، فرانس:
شعیب کو اب نہیں کھلانا چاہیے، وہ خود کو ہیرو اور قوم کو زیرو سمجھتے ہیں۔

شکیب قریشی، ٹیکساس:
انضمام، آفریدی، شعیب ملک اور عبدالرزاق پر پاکستان کو منحصر کرنا پڑے گا۔ یونس خان نائب کپتان کے لئے اچھی چوائس نہیں ہیں۔ ان کا بیٹنگ ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور انہیں ٹیم میں بھی نہیں ہونا چاہئے۔ توفیق عمر کو بار بار ٹرائی کیا گیا لیکن وہ ناکام رہے۔۔۔۔

شہزاد، سیالکوٹ:
میرے خیال میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان آشیز سیریز کی طرح ایک سیریز ہونی چاہئے جو ہر سال کھیلی جائے۔ ایک سال انڈیا پاکستان کا دورہ کرے اور دوسرے سال پاکستان انڈیا جائے۔

اویس چودھری، جرمنی:
میری دعا ہے کہ پاکستان جیت جائے لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ جس پلیئر کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی اسے نائب کپتان کیسے بنادیا۔ خان صاحب نے میچوں کی تو سو کرلی لیکن رنز کی سو صرف ہانگ کانگ کے خلاف۔۔۔۔

افسر زیب خان، شرجہ:
اس بار پاکستان جیتے یا ہارے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ شعیب اختر ٹیم سے باہر ہے۔ شعیب اختر کے نخرے دیکھ کر عمران کا یاد آجاتا ہے کہ کس طرح قاسم عمر، یونس کو ایک جھٹکے سے باہر کردیا گیا تھا۔ اگر آج عمران ہوتا۔۔۔۔

شاہد نواز، سرگودھا:
ٹھیک ہے لیکن یوسف یوحنا کو نائب کپتان ہونا چاہئے تھا۔ جیتنے کا عزم لے کر میدان میں جائیں گے۔۔۔۔

ابوالحسن علی، لاہور:
پاکستان کی ٹیم بظاہر بڑی مضبوط نظر آتی ہے لیکن میرے خیال میں یہ کمزور ہے۔ کیوں کہ بولنگ لائن کافی حیران کن ہے۔ انضمام الحق ویسے تو کافی مطمئن ہیں مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دورہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کردے گا۔

فہیم عثمانی، یواے ای:
یوحنا کو نائب کپتان ہی رہنے دینا تھا۔ یونس خان ابھی تجربہ کار نہیں ہے۔ پاکستان ون ڈے سیریز ضرور جیتے گا، اور ٹیسٹ میں دونوں ملکوں کا پچاس پچاس فیصد کا چانس ہے۔

محمد عاصف اچکزئی، کوئٹہ:
یونس خان کو وائس کپتان کی بجائے کپتان بنا لیتے تو شاید جیتنے کے کچھ چانسز ہوتے۔ ویسے بھی انضمام کو اب ریٹائر ہوکر نوجوانوں کے لئے راستہ خالی کردینا چاہئے۔

ڈاکٹر ش الیاس، جان پور:
دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے لئے یہ کافی اہم ہے۔ اس سے عوام کے اندر اعتماد پیدا ہوگا۔

مبشر حسین، دہران:
ٹیم کا اعلان ہوگیا ہے لیکن میرے خیال میں معین خان کو شامل کرنا چاہئے تھا۔ باقی اللہ مالک ہے۔

انسپکٹر رانا ماجد منہاس، رحیم یار خان:
شاہد آفریدی جیسے ناقابل اعتبار کھلاڑی کو شامل نہیں کرنا چاہئےتھا۔ اگر کھلاڑی اس دورے پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتے تو ان کا پبلک ٹرائل ہونا چاہئے۔

شیر دل حسن:
میں تو یہ سنتے سنتے تنگ آگیا ہوں کہ پاکستانی ٹیم جیت جائے گی، اگر اچھا کھیلے! تندولکر آؤٹ ہوجائے گا اگر بال اور وکٹ کے درمیان بلا نہ لائے!

اچھا ہے شعیب نہ جارہے۔۔۔۔
 ہمیں وسیم یا وقار جیسا مسلسل پرفارمنس دینے والا بولر چاہئے، نہ کہ شعیب جیسا جس کا جب دل کرے گھٹنا پکڑکر گراؤنڈ سے باہر چلا جائے۔
عاصم افضال، گجر خان

عاصم افضال، گجرخان:
یہ اچھا ہے کہ شعیب نہیں جارہا ہے۔ اللہ کرے ون ڈے کہ لئے بھی وہ نہ ہی ہوں تو بہتر ہے۔ کیوں کہ ان کا ٹیم میں ہونا ایک خواہ مخواہ کا احسان ہے۔ شعب کے بغیر جیسی اچھی پرفارمنس پاکستانی بولروں نے آسٹریلیا میں دی شاید شعیب کی موجودگی میں نہ دے سکتے۔ ہمیں وسیم یا وقار جیسا مسلسل پرفارمنس دینے والا بولر چاہئے، نہ کہ شعیب جیسا جس کا جب دل کرے گھٹنا پکڑکر گراؤنڈ سے باہر چلا جائے۔

آفتاب احمد خاص خیلی، بدین:
میرے خیال سے پاکستان کو انڈیا جانا چاہئے کیوں کہ دونوں ملک اب دوستی کی جانب گامزن ہیں۔۔۔۔

انجم عباس، چلیاں والا:
پاکستان کو کھلے دل سے جانا چاہئے اور ایک ٹیم کی طرح کھیلنا چاہئے۔ اگر وہ ڈِسپلن حاصل کرلیں تو جیتنا یا ہارنا اہم نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو اگر وہ جیت بھی جائیں تو بھی یہ جیت ان لوگوں کے لئے کوئی معنی نہیں رکھے گی جنہیں حقائق سے واقفیت ہے۔۔۔۔۔

زیاد احمد، کراچی:
اس سیریز سے دونوں ملک کے عوام جو بھی امید رکھیں، لیکن دونوں ملک کے سٹے باز تو بڑی امیدیں رکھے ہوئے ہوں گے۔

منصور احمد شاہی، مستونگ:
پلیز کرکٹ کو کرکٹ ہی رہنے دیں، پولِٹکس مت بنائیں۔

نور کریم، پشاور:
پاکستان یہ سیریز جیتے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم اچھے کھیل کا مظاہرہ کریں گے، کیوں کہ شعیب نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شعیب دنیا کا فاسٹیسٹ بولر ہے لیکن وہ اپنے لئے کھیلتا ہے، پاکستان کے لئے نہیں۔ ہم انڈیا میں بہتر کریں گے۔

فرحان خان، حیدرآباد، انڈیا:
سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم یعنی ہندوستانی عوام پاکستانی ٹیم کا تہ دل سے استقبال کرتے ہیں اور یہ امید بھی کرتے ہیں کہ ہم معصوم بچوں کی طرح سب کچھ بھلاکر یعنی ماضی کی تلخیاں اور دونوں حکومتوں کی نادانیاں، معصوم بچوں کی طرح بھلاکر پھر سے اتحاد اور اسپورٹس مین شپ کا ثبوت دیں گے۔ اور ہار جیت تو لازمی ہے، کوئی جیتے گا اور کوئی ہارے گا اس کو قومی مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔

منصور ملک، جاپان:
پاکستان کی ٹیم اچھی ہے لیک گزارش ہے کہ شاہد آفریدی کو وکٹ پر رکنا چاہئے، رزاق کی طرح میچ کو لاسٹ بال تک لیکر جانا چاہئے۔۔۔

محمد شہباز، سیالکوٹ:
پاکستان کی ٹیم کو دھیان سے کھیلنا چاہئے اور بُک مکروں سے بچ کر رہنا چاہئے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
شعیب کے نہ جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ٹیم پر ایک برڈن ہے۔ پاکستان ٹیم اگر مکمل اسپرٹ کے ساتھ کھیلے تو جیت سکتی ہے۔ عمران نظیر کو چانس دینا چاہئے۔

محمد اشفاق، لاہور:
انڈیا ون ڈے سیریز ہار جائے گا۔ پاکستان جیتے گا۔

عرفان فانی، سرگودھا:
پاکستان کرکٹ ٹیم انڈیا کے مقابلے میں بہت کمزور ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام نے کبھی کوئی اچھی ٹیم نہیں چنی جس کی وجہ سے پاکستان کو ہمیشہ نقصان ہی اٹھانا پڑا۔ بورڈ ہمیشہ سفارشیوں کو ہی موقعہ دیتا ہے۔

فضل سبحان، ابوظہبی:
پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیم جب ایک دوسرے کے ملک جا کر کھیلتے ہیں تو اس میں حکومتوں کی سفارت کاری زیادہ اور کرکٹ کم ہوجاتی ہے۔ یہ صرف عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔

شعیب اختر یا شعیب ایکٹر
 رہی بات شعیب اختر کی تو وہ واقعی شعیب اختر نہیں شعیب ایکٹر ہیں لہٰذا ان کا ٹیم سے باہر رہنا ہی ٹیم کے حق میں ہے۔
عامر رفیق، لندن

عامر رفیق، لندن:
ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن اس سیریز میں انڈیا کی ٹیم ہماری ٹیم سے بہتر دکھائی دیتی ہے۔ رہی بات شعیب اختر کی تو وہ واقعی شعیب اختر نہیں شعیب ایکٹر ہیں لہٰذا ان کا ٹیم سے باہر رہنا ہی ٹیم کے حق میں ہے۔

گل فرید شیخ، سندھ:
کچھ نہیں ہوگا پاکستان کی ٹیم کو، انہیں احمد آباد میں میچ کھیلنا چاہیے۔ ویسے بھی زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جیسے انڈیا والے پاکستان کے دورے کے وقت کہہ رہے تھے کہ وہ پشاور اور کراچی میں نہیں کھیلیں گے۔ باقی پاکستان اور انڈیا کے درمیان جتنے بھی میچ ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عبدالعلیم، جاپان:
ان کو سب سے پہلے شعیب اختر جیسے نام نہاد سپر سٹار سے جان چھڑانی چاہیے جو کبھی نہ کھیل کر سٹار بنے بیٹھے ہیں۔

صفدر اویسی، میلسی:
یہ اچھے تعلقات کے لیے بہت اچھا ہے۔ ہم اس سیریز کے انتظار میں ہیں۔

محمد جمن، میرپور خاص:
پاکستانی بولنگ ابھی فارم میں ہے اس لیے ڈھائی اوور کے بولر کو نہ ہی لے کر جائیں تو اچھا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس نے خود ہی منع کردیا۔ کم از کم ہماری نظر میں عزت تو رہ جائے گی۔ بیٹنگ لائن تھوڑی کمزور ہے لیکن اللہ خیر کرے گا۔ ہماری دعائیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔

عثمان محمود، آسٹریا:
جیتے گا تو پاکستان ہی، ہماری دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
ہر کوئی اپنوں کے لئے اچھا ہی سوچتا ہے اور ظاہر ہے ہم بھی اپنی ٹیم سے اچھی امید ہی کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں ہماری ٹیم بھارت کے دورے سے کامیاب و کامران واپس آئے۔ اور کسی بھی جگہ کوئی غلط بات نہ ہو، کہ میدان میں کارآمد ہوجائیں۔ دونوں ملکوں کے ہی عام عوام اس وقت دوستی چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ملکوں میں آنا جانا چاہتے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی ٹیموں کے لئے دعا گو ہیں۔۔۔۔

وصی خان، امریکہ:
اچھی بات ہے، دورہ کرنا چاہئے۔ مگر احمد آباد کا مسئلہ کچھ گڑبڑ ہے، اللہ خیر کرے اور ہماری ٹیم اور دوسرے لوگوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین۔ شعیب بھی غصہ نہ کریں، غلطی کی سزا تو ملتی ہے نہ، ویسے شعیب کے بغیر ٹیم بہت اچھا کھیلی تھی آسٹریلیا میں۔ شعیب کا انڈیا نہ جانا ہی پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ کم از کم ٹیم میں یونیٹی رہتی ہے۔

احسن خان، شنگھائی:
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو مثبت سوچ کے ساتھ انڈیا جانا چاہئے اور مثبت کرکٹ کھیلنی چاہئے۔ پھر جو بھی جیتے یا ہارے وہ تاریخ ہوگی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا کو ہر سال کرکٹ کھیلنا چاہئے، اچھے پڑوسیوں کی طرح، اچھے دوستوں کی طرح اور دنیا کو دکھائیں کہ ہم اب بدل چکے ہیں!

محمد شہباز، سیالکوٹ:
پاکستان کی ٹیم کو دھیان سے کھیلنا چاہئے اور بُک مکروں سے بچ کر رہنا چاہئے۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
شعیب کے نہ جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ٹیم پر ایک برڈن ہے۔ پاکستان ٹیم اگر مکمل اسپرٹ کے ساتھ کھیلے تو جیت سکتی ہے۔ عمران نظیر کو چانس دینا چاہئے۔

محمد اشفاق، لاہور:
انڈیا ون ڈے سیریز ہار جائے گا۔ پاکستان جیتے گا۔

وقار اعوان، کراچی:
پاکستان اور انڈیا کے مابین ہمیشہ کرکٹ کے میچ ایک جنگ کی طرح ہوتے ہیں۔ لیکن پچھلے سال انڈیا کے پاکستان ٹور کے بعد سے صورت حال بدل چکی ہے۔ کرکٹ ایک گیم ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم سب اسپورٹس مین شِپ کا مظاہر کریں گے کیوں کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، مرنے ورنے کی وجہ نہیں۔

نجم ولی خان، لاہور:
ہم ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے ہیں جہاں اصولوں، روایات اور عزت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کیا آپ کا کسی کے ساتھ قتل کا جھگڑا ہو تو آپ اس کے ساتھ بیٹھ کے لوڈو کھیل سکتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔۔۔

عاصم افضل، گجرخان، پاکستان:
کاش اس سیریز میں وسیم، وقار، ثقلین اور سعید انور ہوتے۔۔۔۔

کھیل اور جذبات
 اگر آپ کرکٹ کی بات کریں اور وہ بھی جب کھیلا جارہا ہو انڈیا اور پاکستان کے بیچ، تو صرف یہ ایک کھیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا کھیل بن جاتا ہے جس کے ساتھ جذبات بہت زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔
محمد امجد، بنگلور، کرناٹک

محمد امجد، بنگلور، کرناٹک:
اگر آپ کرکٹ کی بات کریں اور وہ بھی جب کھیلا جارہا ہو انڈیا اور پاکستان کے بیچ، تو صرف یہ ایک کھیل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسا کھیل بن جاتا ہے جس کے ساتھ جذبات بہت زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔ تو اس بنیاد پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ سیریز بہت مثبت اور کارآمد ثابت ہوگی، اور وہ بھی ایسے ماحول میں جب دونوں ملک تعلقات کو مستحکم بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ میری یہ اللہ سے دعا ہے کہ دونوں ملکوں کے بیچ دائمی دوستی قائم ہوجائے۔ آمین۔

اختر نواز، لاہور:
امیدوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امیدوں کا تعلق ان۔۔۔۔ سے ہے جو کھلاڑی بھی ہیں اور حکام بھی۔۔۔۔

منظور احمد، مظفرآباد:
میرے خیال سے دونوں ملکوں کے عام لوگوں کا دل جیتنے کے لئے یہ اچھی سیریز ہوگی، لیکن دونوں روایتی حریفوں میں کئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

دورۂ بھارتانضمام جواب دیں گے
دورۂ بھارت: 21 فروری کو ٹاکنگ پوائنٹ کا موضوع
شعیب اخترشعیب کو سزا
شعیب اختر پر پانچ سو امریکی ڈالر جرمانہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد