تجربات پر تنقید بلاجواز ہے: انضمام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ آسٹریلیا کے دورے میں شکست کا ایک سبب غیرضروری تجربات کا کیا جانا تھا۔ منگل کو آسٹریلیا سے وطن واپسی پر کراچی ائرپورٹ پر بی بی سی کو انٹرویو میں انضمام الحق کا کہنا تھا کہ انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیوں کہا جارہا ہے کہ کھلاڑیوں کی پوزیشن بار بار تبدیل کی گئیں اور تجربات کئے گئے۔ پاکستانی کپتان کہتے ہیں کہ ناکامی کی وجہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کا اسکور نہ کرنا تھی کیونکہ آسٹریلیا میں نئی گیند کھیلنا آسان نہیں۔ ٹیم میں اکثریت ان کھلاڑیوں کی تھی جو پہلی مرتبہ آسٹریلیا کا دورہ کررہے تھے اس کے باوجود انہوں نے ہر کھلاڑی کو بھرپور چانس دیا۔ سلمان بٹ کو صرف فائنل میں ڈراپ کیا گیا۔ اسی طرح کامران اکمل کو چھ میچوں میں اوپنر کے طور پر کھلایا اور محمد حفیظ کو بھی پورا پورا موقع دیا گیا۔ چھٹے بولر کی کمی ٹیم کو شدت سے محسوس ہوتی ہے لہذا کامران سے اوپننگ کرائی گئی۔ انضمام الحق کے خیال میں وہ اوریوسف یوحنا کسی بھی نمبر پر بیٹنگ کریں فرق نہیں پڑتا چونکہ ٹیم میں چار اوپنرز موجود تھے لہذا انہی کو اوپنر اور ون ڈاؤن کے طور پر کھلانا ضروری تھا۔ بولنگ کے شعبے پر تبصرہ کرتے ہوئے انضمام کہتے ہیں کہ فرنٹ لائن بولرز کے نہ ہونے کے باوجود نئے بولرز نے عمدہ بولنگ کی جس سے انہیں حوصلہ ملا ہے کہ بیک اپ موجود ہے اور یہ بولرز دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انضمام الحق خاص کر رانا نوید الحسن کی بولنگ کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے نہ صرف بولنگ بلکہ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ ’راؤ افتخار شاہد آفریدی عبدالرزاق اور محمد حفیظ نے بھی اچھی بولنگ کی۔کامران اکمل کی وکٹ کیپنگ متاثر کن رہی اس دورے میں تین چار کھلاڑی پختگی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔‘ شعیب اختر کے معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ چونکہ ڈاکٹرز نے انہیں ہفتہ دس دن بولنگ نہ کرنے کے لئے کہا تھا دورہ ختم ہورہا تھا لہذا آسٹریلیا میں ان کے رکنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ کچھ سینئر کھلاڑی شعیب اختر کے ساتھ کھیلنے کے لئے تیار نہیں ہیں، انضمام الحق نے کہا کہ اس دورے میں نہ جانے کتنے بیانات ان سے منسوب کئے گئے جو انہوں نے نہیں دیئے۔ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی کپتانی پر ہونے والی تنقید کی پرواہ نہیں کیونکہ پاکستان میں شکست کے بعد یہ سب کچھ ہوتا ہے اور اس قسم کی صورتحال ان کے لئے نئی نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||