پاکستانی ٹیم کا دورۂ بھارت مشکوک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورۂ بھارت فی الحال مخدوش ہے تاہم انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ مسئلہ دو تین دن میں حل ہو جائے گا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہریارخان نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے احمد آباد کا انتخاب سیاسی بنیاد پر نہیں کیا تھا بلکہ روٹیشن کی پالیسی کے تحت تھا۔ لیکن اب وہ مشکل سے دوچار ہے کیونکہ وہاں سے میچ کہیں اور منتقل کرنے کی صورت میں اسے سیاسی جماعتوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اپنے موقف سے نہیں ہٹ سکتا کیونکہ ماضی کے تلخ واقعات سب کے سامنے ہیں۔ شہریارخان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا موجودہ صورتحال میں پاکستانی ٹیم کے دورے کو خطرہ لاحق ہے توان کا جواب اثبات میں تھا۔ انہوں نے کہا: ’بالکل خطرہ لاحق ہے کیونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے ابھی تک گرین سگنل نہیں دیا ہے۔‘ شہریارخان کے مطابق یہ مسئلہ دو تین دن میں حل ہوجانا چاہئے تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سردست یہ یقینی نظر نہیں آتا۔ شہریارخان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں یا وہ اس مرحلے پر دینا نہیں چاہتے کہ اگر یہ مسئلہ دو تین دن میں حل نہ ہوا تو پھر کیا ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کو بھارتی وزیرخارجہ نٹورسنگھ سے ملاقات کرسکتے ہیں بشرطیکہ ان کے پاس وقت ہو۔ البتہ ملاقات کی نوعیت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ دو دوستوں کی ملاقات ہوگی اور کرکٹ پر بات نہیں ہوگی۔ بقول ان کے یہ معاملہ اب دونوں حکومتیں ہی نمٹائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||